سیر روحانی — Page 44
۴۴ آپ کو مشورہ دے لیتی ہیں، پھر کیا تو ان سے بھی بڑا ہے کہ مجھے بولنے نہیں دیتا اور ڈانٹتا ہے۔میں نے کہا ہیں ! ایسا ہوتا ہے؟ وہ کہنے لگی ہاں واقع میں ایسا ہوتا ہے۔میں نے کہا تب میری بیٹی کی خیر نہیں۔یہ بات سُن کر میں اپنی بیٹی کے پاس گیا اور اُسے کہا دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کوئی بات نہیں کرنی۔اگر تو نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سوال جواب کیا تو وہ کسی دن مجھے طلاق دیدیں گے۔حضرت عائشہ پاس ہی تھیں وہ میری بات سن کر بولیں تو کون ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کے معاملات میں دخل دینے والا ، چلو یہاں سے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بات سُن کر ہنس پڑے اور آپ کا غصہ جاتا رہا ہے اور حضرت عمر کی بھی اس واقعہ کے سنانے سے یہی غرض تھی کہ کسی طرح آپ ہنس پڑیں اور آپ کی ناراضگی جاتی رہے۔تو بعض قوموں میں یہ رواج ہے کہ وہ سمجھتی ہیں عورت کا یہ حق نہیں کہ وہ مرد کے مقابلہ میں بولے مگر عورت ہے کہ وہ بولے بغیر رہ نہیں سکتی۔اسے کوئی بات کہو وہ اس میں اپنا مشورہ ضرور پیش کر دے گی کہ یوں نہیں یوں کرنا چاہئے ، پھر خواہ تھوڑی دیر کے بعد وہ مرد کی بات ہی مان لے مگر اپنا پہلو کچھ نہ کچھ اونچاہی رکھنا چاہتی ہے اور مرد کے مشورہ پر اپنی طرف سے پالش ضرور کرنا چاہتی ہے۔عورتوں کے حقوق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی لئے لوگوں کو نصیحت کی ہے کہ تم عورت کی روح کو کچلنے کی کوشش نہ کیا کرو۔اس کے اندر یہ ایک فطرتی مادہ ہے کہ وہ مرد سے کسی قدر رقابت رکھتی اور طبعاً ایک حد تک اس کے مخالف رائے دینے کی خواہشمند ہوتی ہے پس اگر اس کی بحث غلط بھی معلوم ہو ا کرے تو اس کی برداشت کیا کرو کیونکہ اگر تم اسے چُپ کرا دو گے تو یہ اس کی فطرت پر گراں گزرے گا اور وہ بیمار ہو جائے گی۔کیسی اعلیٰ درجہ کی اخلاقی تعلیم ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی مگر لوگوں نے اس کی حدیث کے یہ معنی کر لئے کہ عورت پسلی سے پیدا ہوئی ہے۔پہلے دور انسانی کا نظام قانون قرآنی آثار قدیمہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس نظام والی ابتدائی حکومت کا قانون کیا تھا اور معلوم ہوتا ہے کہ پہلا دور انسانی صرف تمدنی ترقی تک محدود تھا۔اس طرح کہ :- (۱)۔لوگوں میں خدا تعالیٰ کا اجمالی ایمان پیدا ہو گیا تھا اور انسان کو الہام ہونا شروع ہو گیا تھا جیسا کہ قُلْنَا يَادَمُ وغیرہ الفاظ سے ظاہر ہے۔