سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 629 of 900

سیر روحانی — Page 629

۶۲۹ ہے وہ شخص چند آدمیوں کا دشمن ہو اور ممکن ہے کہ چند آدمیوں کا دوست ہو۔ہم نے دیکھا ہے ایک آدمی سے پوچھو تو وہ کچھ آدمیوں کی تعریف کر دیتا ہے اور دوسرے آدمیوں سے پوچھو تو وہ اُن کی مذمت کر دیتے ہیں۔غرض اس طرح کی باتیں سُن کر لازماً وہ مجبور ہوتا ہے کہ اُن باتوں کو لے اور دوسروں کو پہنچا دے۔اسی طرح ہم نے دیکھا ہے بعض دفعہ عورتوں سے پوچھ لیتے ہیں۔ملازموں سے پوچھ لیتے ہیں، ہمسایوں سے پوچھ لیتے ہیں اور اس طرح اپنی ڈائری مکمل کر لیتے ہیں۔اس میں بہت سی باتیں بچی بھی ہوتی ہیں اور بہت سی باتیں غلط بھی ہوتی ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ روحانی ڈائری نویس يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ کا مصداق ہوتے ہیں! فرماتا ہے يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ ہم نے جو یہ ڈائری نویس مقرر کئے ہیں یہ کسی سے پوچھ کر نہیں لکھتے بلکہ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ جو کچھ تم کرتے ہو وہاں تک اُن کو اپروچ (APPROACH) حاصل ہے اُن کو پہنچ حاصل ہے اور تم جو بھی کام کرتے ہو اُن کی نظر کے نیچے ہوتا ہے پس وہ اپنی دیکھی ہوئی بات لکھتے ہیں کسی سے پوچھ کر نہیں لکھتے اس لئے نہ تو لالچ کی وجہ سے کوئی نوکر جُھوٹ بول سکتا ہے، نہ بیوقوفی کی وجہ سے کوئی بچہ غلط خبر دے سکتا ہے نہ دشمنی کی وجہ سے کوئی ہمسایہ فریب کر سکتا ہے اُن کی اپنی دیکھی ہوئی بات ہوتی ہے جو صحیح ہوتی ہے۔ایک عرائض نویس کا لطیفہ ہم نے دیکھا ہے دنیوی ڈائریوں میں بعض دفعہ ایسی ایسی غلطی ہو جاتی ہے کہ لطیفے بن جاتے ہیں۔مجھے یاد ہے گورداسپور میں ایک صاحب عرائض نویس ہوا کرتے تھے میں بھی اُن سے ملا ہوں۔اُن کے اندر یہ عادت تھی کہ جب کوئی شخص اُن سے ملتا اور اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہہ کر مصافحہ کرتا تو وہ اُس کا ہاتھ پکڑ لیتے اور بجائے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہنے کے ایڑی پر کھڑے ہو کر اللهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ کہنا شروع کر دیتے ، یوں آدمی نمازی اور دیندار تھے۔ان کے متعلق یہ لطیفہ مشہور ہوا کہ ایک دفعہ اتفاقا ڈ پٹی کمشنر کے دفتر سے کچھ مسلیں غائب ہو گئیں۔کوئی صاحب غرض ہوگا یا کوئی شرارتی ہوگا یا کسی نے افسر کو دُکھ پہنچانا ہوگا اب تحقیقات کے لئے پولیس کو مقرر کیا گیا کہ پتہ لو مسلیں کہاں گئیں؟ انہوں نے تحقیقات کر کے خبر دی کہ ہم نے پتہ لے لیا ہے اگر گورنمنٹ اجازت دے تو ہم اس پر کارروائی کریں۔چنانچہ ڈپٹی کمشنر نے یا جو بھی مجسٹریٹ مقرر تھا اُس نے اجازت دے دی اور وہی شخص جو مصافحہ کرتے ہوئے اللهُ اَكْبَرُ ، اللهُ أَكْبَرُ کہا کرتا تھا پولیس نے اُس کے