سیر روحانی — Page 616
۶۱۶ اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور اُسکی وحدانیت کا ایک بار پھر اقرار یہاں بھی کروہ اوقی ایک بار پھر کہتا ہے اللهُ اَكْبَرُ اللهُ اَكْبَرُ یعنی اب تک جو کچھ میں نے کہا تھا وہ صرف میرے عقیدہ کا اظہار تھا مگر اب جب کہ میری گودی بھر گئی ہے اور مجھے وہ چیزیں ملی ہیں جو دنیا میں بڑے بڑے بادشاہوں کے پاس بھی نہیں ہیں اور میرا خیال حقیقت اور میرا عقیدہ واقعہ بن چکا ہے میں دوبارہ اس امر کا اظہار کرتا ہوں کہ اللہ واقع میں سب سے بڑا ہے کیونکہ میں نے بیکس اور بے بس ہونے کے با وجود فلاح پالی ، میرا عقیدہ ٹھیک نکلا اور میرا ایمان حقیقت بن گیا اس لئے اب میں یقین اور تجربہ کی بناء پر کہتا ہوں کہ اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے۔پھر وہ آخر میں کہتا ہے کہ لَا إِلَهَ إِلَّا الله کہ خدا کی بڑائی کے اظہار سے تو صرف یہ ثابت ہوتا تھا کہ کئی طاقتوں میں سے خدا کی طاقت سب سے بڑی ہے مگر اُسکے نشان دیکھ کر اب تو میں یہ کہتا ہوں کہ دنیا میں خدا کی حکومت کے سوا کسی کی حکومت ہی باقی نہیں رہے گی صرف وہی پو جا جائے گا اور اس کا حکم دنیا میں چلے گا۔! مسجد نبوی میں بیٹھ کر تمام دنیا کو فتح کرنے کے عزائم دیکھو امسلمانوں نے سچے دل سے یہ نوبت بجائی تھی پھر کس طرح وہ مدینہ سے نکل کر ساری دنیا میں پھیل گئے۔دُنیا میں اُس وقت دو ہی حقیقی حکومتیں تھیں ایک قیصر کی حکومت تھی جو مغرب پر حاکم تھی اور ایک کسری کی حکومت تھی جو مشرق کی مالک تھی۔مگر اس نوبت خانہ میں جو بظاہر اتنا حقیر تھا کہ کھجور کی ٹہنیوں سے اُس کی چھت بنائی گئی تھی ، پانی برستا تھا تو زمین گیلی ہو جاتی تھی اور اُس کے نوبت بجانے والے جب اُس میں جا کر اپنے آقا کے سامنے جھکتے تھے تو اُن کے گھٹے کیچڑ سے بھر جاتے تھے اور اُن کے ماتھے مٹی سے بھر جاتے تھے۔یہ لوگ تھے جو قیصر اور کسریٰ کی حکومت کو تباہ کرنے کے لئے آئے تھے۔یورپ کا ایک مصنف اپنے انصاف اور قلبی عدل کی وجہ سے لکھتا ہے کہ میں اسلام کو نہیں مانتا، ہمیں عیسائی پادریوں کی باتوں سے سمجھتا ہوں کہ جس طرح وہ کہتے ہیں اسلام جھوٹا ہی ہوگا لیکن میں جب تاریخ پڑھتا ہوں تو تیرہ سو سال کا زمانہ میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ایک کچا مکان ہے، اُس کے اوپر کھجور کی ٹہنیوں کی چھت پڑی ہوئی ہے، بارش ہوتی ہے تو اُس میں پانی آجاتا ہے ( حدیثوں میں یہ واقعات آئے ہیں کہ بارش ہوتی تو