سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 615 of 900

سیر روحانی — Page 615

۶۱۵ حساب کرو۔اسے بیچنا ہے اور وہ کھڑے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ کسی نے گندم لینی ہو تو لے لے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو دیکھا۔اُسوقت اُن کی حالت ایسی تھی کہ پسینہ آنا کو آ رہا تھا ، دھوپ میں کھڑے تھے ، مزدوری بھی شاید اُن کو بہت تھوڑی ملنی تھی ، غرض تکلیف کی بہت سی علامات تھیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں دیکھ کر احساس ہوا کہ دیکھو ان کو سخت تکلیف ہو رہی ہے۔آپ پیچھے پیچھے آہستہ قدم چلتے گئے اور اُن کی آنکھوں پر جیسے بچے کھیلتے ہیں ہاتھ رکھ دیئے۔اُس نے اِدھر اُدھر ہاتھ مار کر دیکھا اور خیال کیا کہ میرے جیسے آدمی سے پیار کون کر سکتا ہے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں، گھن کھاتے ہیں لیکن یہ کون میرا دوست اور خیر خواہ آ گیا جو مجھے پیار کرنے لگا ہے۔اِدھر اُدھر ہاتھ مارنے شروع کئے ، آخر اُن کے ہاتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کلائی پر پڑے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم میں یہ خوبی تھی کہ آپ کے بال بہت کم تھے اور مشہور تھا کہ آپ کا جسم بہت ملائم ہے۔اُس نے ہاتھ ملے تو سمجھ گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پیار کر رہے ہیں تو میں بھی نخرے کروں۔اُس کے جسم پر مٹی لگی ہوئی تھی ، پسینہ آیا ہوا تھا اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب میل ملنی شروع کر دی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ پہچان گیا ہے۔آپ نے فرمایا لوگو! میں ایک غلام بیچتا ہوں کسی نے خریدنا ہے؟ جب آپ نے یہ فرمایا تو اس کو اپنی حالت پھر یا د آ گئی اور اُس نے بڑی ہی افسردگی سے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! میرا خریدار دنیا میں کون ہو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا ایسا نہ کہو تمہارا خریدار تو خود خدا ہے۔14 تو دیکھو! وہ شخص جس کو دیکھ کر اُس کے دوست اور رشتہ دار بھی گھن کھاتے تھے۔اُس کے متعلق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ یہ خدا کا پیارا ہے۔یہی بات حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ میں بیان کی گئی ہے کہ دنیا کی ساری کامیابی تمہیں یہاں آنے سے ہی حاصل ہوگی۔تم سب جگہ دھتکارے جا سکتے ہو، تم سب جگہ حقیر سمجھے جا سکتے ہو مگر میرے رب کی عبادت اور غلامی ہر مقصد و مدعا میں انسان کو کامیاب بنا دیتی ہے۔جو اُس کے ہو جاتے ہیں اُن پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔جو اُس کے غلاموں پر ہاتھ ڈالے خواہ ساری دُنیا کا بادشاہ کیوں نہ ہو اُس کے ہاتھ شل کر دیئے جاتے ہیں، اُس کی رگِ جان کاٹ دی جاتی ہے، اُسے ذلیل اور رُسوا کر دیا جاتا ہے کیونکہ خدا کے غلام دنیا کے بادشاہوں سے زیادہ معزز ہیں اور اُن کے محافظ فرشتے ہوتے ہیں جو دنیوی سپاہیوں سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ہے ا