سیر روحانی — Page 611
۶۱۱ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا۔میں نے تمہیں بتا دیا ہے جاؤ اور اسکو جواب دیدو۔خیر وہ یمن میں آئے اور انہوں نے گورنر سے کہا کہ انہوں نے تو ہمیں ایسا جواب دیا ہے۔یمن کا گورنر سمجھدار تھا۔اُس نے کہا اگر اس شخص نے ایران کے بادشاہ کو یہ جواب دیا ہے تو کوئی بات ہو گی۔اسلئے تم انتظار کرو چنانچہ وہ انتظار کرتے رہے۔کسرای قتل کر دیا گیا دس بارہ دن گزرے تھے کہ ایک جہاز وہاں پہنچا۔اُس نے آدمی مقرر کئے ہوئے تھے کہ اگر کوئی خبر آئے تو جلدی اطلاع دو۔انہوں نے اطلاع دی کہ ایک جہاز آیا ہے اور اُس پر جو جھنڈا ہے وہ نئے بادشاہ کا ہے۔اُس نے کہا جلدی اُن سفیروں کو لے کر آؤ۔جب وہ گورنر کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا ہمیں بادشاہ نے ایک خط آپ کو پہنچانے کے لئے دیا ہے۔اُس نے خط دیکھا تو اس پر مہر ایک اور بادشاہ کی تھی۔اُس نے اپنے دستور کے مطابق خط کو سر پر رکھا، آنکھوں پر رکھا اور اُسے چوما اور پھر اُسکو کھولا تو وہ بادشاہ کی پیٹھی تھی جس میں لکھا تھا کہ پہلے بادشاہ کے ظلم اور سختیوں کو دیکھ کر ہم نے سمجھا کہ ملک تباہ ہو رہا ہے اس لئے فلاں رات ہم نے اُس کو قتل کر دیا ہے اور ہم اُس کی جگہ تخت پر بیٹھ گئے ہیں۔اور یہ وہی رات تھی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آج میرے خدا نے تمہارے خدا کو مار دیا ہے۔اس کے بعد اس نے لکھا کہ تم ہماری اطاعت کا سب سے وعدہ لو۔اور یہ بھی یا د رکھو کہ اُس نے عرب کے ایک آدمی کو پکڑنے کیلئے جو حکم بھیجا تھا تم اُس کو منسوخ کر دو۔۶۵ یہ وہ چیز تھی کہ جس کو دیکھ کر یمن کا گورنر اُس دن سے دل سے مسلمان ہو گیا اور بعد میں دوسرے لوگ بھی اسلام میں داخل ہو گئے۔غرض اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ اَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ تم کس کے پیچھے چل رہے ہو۔جن کو تم بڑے سے بڑا سمجھتے ہو حکومت امریکہ کو سمجھ لو، حکومت روس کو سمجھ لو خدا کے مقابلہ میں اُن کی کیا حیثیت ہے۔جو خدا کا بندہ ہوتا ہے وہ کہتا ہے کہ تم میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتے ، کچھ کرلو خدا میرا محافظ ہے تم کیا کر لو گے۔حکومتیں کچھ نہیں کر سکتیں ، بادشاہتیں کچھ نہیں کر سکتیں، وہ اپنے رعب جتائیں ، ڈرائیں جو کچھ مرضی ہے کر لیں ، وہ خدا ہی کا بندہ ہے اور وہی جیتے گا۔آخر جو سب سے بڑا بادشاہ ہے اُس کے ساتھ جو لگے گا اُس کو بڑائی ہی ملے گی چھوٹائی نہیں ملے گی۔خدا کے شیر پر کون ہاتھ ڈال سکتا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایک دفعہ شرارتاً مقدمہ کر دیا گیا۔مقدمہ کے