سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 604 of 900

سیر روحانی — Page 604

۶۰۴ کرتے تھے۔اس کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ گھوڑوں کے سموں سے تیز دوڑنے کی وجہ سے جو آگ پیدا ہو۔لیکن اس جگہ پر سموں کے معنے اس لئے نہیں کئے جا سکتے کہ وَالْعَدِيتِ صَبْحًا میں اس کا ذکر آچکا ہے اور بتایا جا چکا ہے کہ گھوڑے دوڑتے ہیں اور انہیں سانس چڑھ جاتا ہے اور جس کو سانس چڑھے گا اُس کے سموں سے آپ ہی آگ نکلے گی۔پس یہاں آگ جلانے کا ذکر ہے اور حدیثوں سے بھی پتہ لگتا ہے کہ اس جگہ مراد یہ ہے کہ وہ لوگ اُترتے ہیں اور کھانے وغیرہ پکاتے ہیں اور آگ جلاتے ہیں۔اس میں سواروں کی بہادری اور اطمینان کی طرف اشارہ ہے کہ وہ دشمنوں سے ڈریں گے نہیں ، کھلے کیمپ لگائیں گے اور آگ روشن کریں گے۔دشمن سے ڈر کر روشنیاں بجھا ئیں گے نہیں۔جیسے فتح مکہ کے وقت ابوسفیان کا روشنیوں سے پریشان ہو جانا اسکی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔جب لشکر اپنے دشمن سے ڈرتا ہے تو شبخون سے بچنے کے لئے اپنے پڑاؤ کا نشان نہیں دیتا۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسلمان خوب روشنی کر کے پڑاؤ کریں گے اور دشمن سے ڈریں گے نہیں کیونکہ کہیں گے کہ اُس نے ہمیں مارنا ہی ہے نا تو مرکز جنت میں چلے جائیں گے ہمیں ڈرکس بات کا ہو۔حضرت ضرار کا واقعہ تاریخ میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک عیسائی جرنیل نے بہت سے سپاہی مار دیئے اسلامی کمانڈر انچیف نے ضرار بن ازور کو بلایا اور کہا۔تم جاؤ تم بڑے بہادر آدمی ہو اور اُس سے جا کر لڑو۔بہت سے مسلمان مارے گئے ہیں اور بد دلی پھیل رہی ہے۔وہ لڑنے کے لئے گئے جب اُس کے سامنے کھڑے ہوئے تو یکدم واپس بھاگے۔مسلمانوں میں بددلی پیدا ہوئی اور انہوں نے بہت تعجب کیا کہ ایک صحابی ہے اور وہ اِس طرح بھاگا ہے۔کمانڈر نے ایک شخص سے کہا تم اس کے پیچھے پیچھے جاؤ اور دیکھو کیا بات ہے؟ جب وہ پہنچا تو ضرار اپنے خیمہ سے نکل رہے تھے۔انہوں نے کہا ضرار ! آج تم نے بڑی بد نامی کرائی ہے۔تمہارے دوست افسوس کر رہے ہیں کہ تم نے اس طرح اسلام کو ذلیل کیا ، تم کیوں بھاگے تھے ؟ انہوں نے کہا میں بھا گا نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ میں نے صبح اتفاقاً زِرہ پہنی تھی جب میں اس کے سامنے گیا تو میرے دل میں خیال آیا کہ اتنا بڑا بہادر ہے کہ اس نے کئی آدمی مارے ہیں میں نے زرہ پہنی ہوئی ہے۔فرض کرو اگر اُس نے مجھے مار لیا تو اللہ مجھ سے پوچھے گا کہ ضرار کیا تم میرے ملنے سے اتنا گھبراتے تھے کہ زرہیں پہن پہن کر جاتے تھے۔تو میں نے خیال کیا کہ اگر میں مر گیا تو ایمان پر نہیں مروں گا۔چنانچہ میں بھا گا ہوا اندر گیا اور