سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 900

سیر روحانی — Page 40

شُرَكَاءَ فِيمَا آتَهُمَا فَتَعَالَى اللَّهُ عَمَّايُشْرِكُونَ ۳ فرماتا ہے۔وہ خدا ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اُس سے اُس کی بیوی کو پیدا کیا تا کہ اُس سے تعلق رکھ کر وہ اطمینان اور سکون حاصل کرے، جب اُس نفسِ واحد نے اپنی بیوی سے صحبت کی تو اُسے ہلکا سا حمل ہو گیا مگر جب اس کا پیٹ بھاری ہو گیا اور دونوں کو معلوم ہو گیا کہ حمل قرار پکڑ گیا ہے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی الہی ! اگر تو نے ہمیں تندرست اور خوبصورت بچہ عطا کیا تو ہم تیرے ہمیشہ شکر گزار رہیں گے مگر جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اچھا اور تندرست بچہ دیدیا تو وہ اللہ تعالیٰ کو بھول گئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کا بعض اور لوگوں کو شریک بنالیا اور اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دُور تر چلے گئے۔اب بتاؤ کیا ان الفاظ میں آدم اور حوا کا ذکر ہے یا عام انسانوں کا۔کیا آدم اور حوا نے پہلے یہ دعا کی تھی کہ ہمیں ایک صالح لڑ کا عطا فرمانا اور جب وہ پیدا ہو گیا تو انہوں نے مشرکانہ خیالات کا اظہار کیا اور وہ بعض ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دینے لگ گئے؟ انہوں نے ہر گز ایسا نہیں کیا اور و آدم جو اللہ تعالیٰ کے نبی تھے ایسا کر ہی نہیں سکتے تھے۔پس صاف پتہ لگتا ہے کہ یہاں آدم کا ذکر نہیں بلکہ آدمی کا ذکر ہے اور انسانوں کے متعلق ایک قاعدہ کا ذکر ہے کسی خاص آدمی کا بھی ذکر نہیں اور چونکہ سب آیات کے الفاظ ایک سے ہیں اس لئے معلوم ہوا کہ سب جگہ ایک ہی معنے ہیں۔نفس واحدہ سے پیدائش کی حقیقت حقیقت یہ ہے کہ خَلَقَكُمْ مِنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ سے مراد صرف یہ ہے کہ ایک ایک انسان سے قبائل و خاندان چلتے ہیں اور بیوی اسی میں سے ہونے کے معنے اسی کی جنس میں سے ہونے کے ہیں اور بتایا ہے کہ ایک ایک آدمی سے بعض دفعہ خاندان کے خاندان چلتے ہیں اگر ماں باپ مشرک ہوں تو قبیلے کے قبیلے گندے ہو جاتے ہیں اور اگر وہ نیک ہوں تو نسلاً بعد نسل ان کے خاندان میں نیکی چلتی جاتی ہے۔پس هُوَ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا اور اسی طرح کے دوسرے الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ اے مرد و! جب تم شادی کرو تو احتیاط سے کام کیا کرو، اور جب میاں بیوی آپس میں ملیں تو اُس وقت بھی وہ احتیاط سے کام لیا کریں، اگر وہ خود مشرک اور بدکار ہونگے تو نسلوں کی نسلیں شرک اور بدکاری میں گرفتار ہو جائیں گی اور اگر وہ خود موحد اور نیکی و تقویٰ میں زندگی بسر کرنے والے ہونگے تو نسلوں کی نسلیں نیک اور پارسا بن جائیں گی۔