سیر روحانی — Page 584
۵۸۴ اُس کا مالک چونکہ ایک بارسوخ شخص تھا اور اُس کا بھائی ڈپٹی کمشنر تھا وہ گورنمنٹ کی چٹھی لکھوا کے لا یا کہ اُن کا سامان اُن کو دے دیا جائے۔یہاں کے افسر اُسوقت بہت زیادہ لحاظ کرتے تھے انہوں نے فوراً لکھدیا کہ ان کو یہ سامان دے دو۔ہم جب گئے ہیں تو اُس وقت تک وہ لوٹا جا چکا تھا دروازے توڑے ہوئے تھے اور بہت سا سامان غائب تھا اور پولیس اُس زمانہ میں ایک لسٹ بنا لیا کرتی تھی کہ یہ یہ اس مکان میں پایا گیا ہے اور چونکہ اُن دنوں ایک دوسرے پر ظلم ہو رہے تھے وہ بہت رعایت کرتے تھے۔لسٹیں عام طور پر ناقص بناتے تھے مثلاً اگر پچاس چیزیں ہوئیں تو چالیس لکھ لیں اور دس رہنے دیں اور کہہ دیا تم لے لو یہ طریق یہاں عام تھا۔جب ہم وہاں گئے تو میں نے حکم دیا کہ جتنی چیزیں لسٹ سے زائد ہیں وہ جمع کر کے ایک طرف رکھ دو۔چنانچہ وہ سب چیزیں رکھ دی گئیں۔جب وہ حکم لا یا تو وہ چیزیں جو لکھی ہوئی تھیں وہ دے دی گئیں۔پاس سرکاری افسر بھی تھے اور پولیس بھی تھی۔اس کے بعد میں نے اپنے لڑکوں کو بلا کر کہا کہ جو چیزیں میں نے الگ رکھوائی تھیں وہ بھی اس کو دیدو۔وہ مسلمان تھانیدار جو اُن کے ساتھ آیا تھا وہ یہ دیکھ کر میرے ایک لڑکے سے لڑ پڑا اور کہنے لگا آپ لوگ یہ کیا غضب کر رہے ہیں ان لوگوں نے ہم پر کیا کیا ظلم کئے ہیں اور آپ ان کی ایک ایک چیز ان کو واپس کر رہے ہیں یہ تو بہت بُری بات ہے مگر اس کے روکنے کے باوجود ہم نے تمام چیزیں نکال کر اس کے سامنے رکھ دیں۔اُنہی چیزوں میں کچھ زیورات بھی تھے وہ میں نے رومال میں باندھ کر ایک الماری میں رکھ چھوڑے جب میں نے دیکھا کہ یہ لوگ اُسے چیزیں دینے میں روک بنتے ہیں تو میں نے سمجھا کہ زیورات ان لوگوں کے سامنے دینا درست نہیں ایسا نہ ہو کہ یہ اُس سے زیور چھین لیں۔یہ لسٹوں میں تو ہیں نہیں چنانچہ میں نے وہ رومال رکھ لیا اور اُسے کہلا بھیجا کہ جاتی دفعہ مجھ سے ملاقات کرتا جائے۔میری غرض یہ تھی کہ جب وہ آئے گا تو میں علیحدگی میں اُس کے زیورات اُس کے حوالے کر دونگا۔چنانچہ جب وہ آیا تو میں نے رومال نکالا اور کہا یہ تمہارے زیورات تھے جو اِس مکان سے ہمیں ملے اب میں یہ زیورات تم کو واپس دیتا ہوں اور میں نے بلا یا ہی اسی غرض کیلئے تھا کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ اگر میں نے لوگوں کے سامنے زیورات واپس کئے تو ممکن ہے سپاہی اور تھانیدار وغیرہ تم سے زیور چھین لیں۔وہ حیران ہو گیا اور کہنے لگا کہ جو ہماری اپنی لسٹیں ہیں اُن میں بھی ان زیوروں کا کہیں ذکر نہیں۔میں نے کہا ہے نہیں ہو گا مگر یہ زیور ہمیں تمہارے مکان سے ہی ملے ہیں اس لئے خواہ لسٹوں میں ان