سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 900

سیر روحانی — Page 36

۳۶ ہوں دوسرے کی غلامی نہیں کر سکتا یہی اَنَا خَيْرٌ مِنْهُ کا دعوی ہے جو آجکل انارکسٹ وغیرہ کرتے رہتے اور کہتے ہیں ہم سے دوسرے کی غلامی برداشت نہیں ہو سکتی ہم تو بغاوت کریں گے اور دوسرے کی غلامی کو کبھی برداشت نہیں کریں گے۔دنیا پر نگاہ دوڑا کر دیکھ لو آج بھی تمام دنیا میں اَنَا خَيْرٌ مِنْهُ کے نعرے لگ رہے ہیں۔انہی معنوں میں ابلیس اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ اے اللہ ! تو نے مجھے ناری طبیعت بنایا ہے اور آدم کی طبیعت طینی ہے۔مجھے تو کوئی بات کہے تو آگ لگ جاتی ہے۔میں تو آدم کی طرح دوسرے کی بات کبھی مان نہیں سکتا۔اُردو میں بھی یہ محاورہ استعمال ہوتا ہے کہتے ہیں فلاں شخص تو آگ ہے۔اب اس کے بہ معنے تو نہیں ہوتے کہ اس کے اندر کوئی دیا جل رہا ہوتا ہے یا آگ کے شعلے اس کے منہ سے نکل رہے ہوتے ہیں؟ مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کی بات مان نہیں سکتا۔اسے کوئی نصیحت کی جائے تو آگ لگ جاتی ہے۔انگریزی میں بھی کہتے ہیں کہ فلاں شخص’ فائر برینڈ“ (FIREBRAND) ہے مطلب یہ کہ وہ شرارتی آدمی ہے حالانکہ اس کے لفظی معنے یہ ہیں کہ جو چیز جل رہی ہو۔مگر مفہوم یہ ہے کہ فلاں شخص ایسا شرارتی ہے کہ ہر جگہ آگ لگا دیتا ہے۔یہی معنے اس آیت کے بھی ہیں اور ابلیس کہتا ہے کہ خدایا میری طبیعت اطاعت کو برداشت نہیں کر سکتی۔دنیا میں بھی روزانہ ایسے واقعات دیکھنے میں آتے ہیں۔ایک شخص کی دوسرے سے لڑائی ہو جاتی ہے تو بعض لوگ چاہتے ہیں ان کی آپس میں صلح ہو جائے۔اب ایک شخص تو صلح کے لئے تیار ہوتا ہے مگر دوسرے کو جب صلح کے لئے کہا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے میں اس سے صلح کرنا کسی صورت میں برداشت نہیں کر سکتا۔میں تو ایک لفظ بھی سننا نہیں چاہتا۔وہ ناری طبیعت ہوتا ہے اور اسی طبیعت کے اقتضاء کے ماتحت اس قسم کے الفاظ اپنی زبان پر لاتا ہے لیکن دوسرا جس کی طینی طبیعت ہوتی ہے وہ کہتا ہے کہ میں تو ہر وقت صلح کے لئے تیار ہوں۔گویا جس طرح گیلی مٹی کو جس سانچے میں چاہو ڈھال لو اسی طرح اس سے جو کام چاہو لے سکتے ہو تو خَلَقْتَنِی مِنْ نَّارِ کے یہ معنے ہیں کہ میں کسی کی بات کی ماننے کے لئے تیار نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جب انسانی نسل ترقی کرتے کرتے ایک ایسے مقام کی پر پہنچی کہ اس میں مادہ تعاون و تمدن پیدا ہو گیا اور اس میں یہ طاقت پیدا ہو گئی کہ وہ دوسرے کی اطاعت کا جوا اپنی گردن پر اُٹھائے تو خدا تعالیٰ نے ان میں سے ایک بہترین آدمی کا انتخاب کر کے اس پر اپنا الہام نازل کیا اور اُسے کہا کہ اب نظام اور تمدن کی ترقی ہونی چاہئے اور انسانوں کو غاروں میں سے نکل کر سطح زمین پر مل جل کر رہنا چاہئے۔