سیر روحانی — Page 554
۵۵۴ بہادری اور طاقت دیکھ کر اُن کے مقابلہ کے لئے تیار نہ ہو جائیں۔تو ہم نے وہاں جانا ہے تمہاری کیا رائے ہے ؟ حضرت ابو بکر نے کہا۔يَا رَسُولَ اللهِ! آپ نے تو اُن سے معاہدہ کیا ہوا ہے اور پھر وہ آپ کی اپنی قوم ہے۔مطلب یہ تھا کہ کیا آپ اپنی قوم کو ماریں گے؟ فرمایا۔ہم اپنی قوم کو نہیں ماریں گے معاہدہ شکنوں کو ماریں گے پھر حضرت عمر سے پوچھا۔تو انہوں نے کہا۔بِسمِ اللهِ ! میں تو روز دُعائیں کرتا تھا کہ یہ دن نصیب ہو اور ہم رسول اللہ کی حفاظت میں کفار سے لڑیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ابوبکر بڑا نرم طبیعت کا ہے مگر قول صادق عمر کی زبان سے زیادہ جاری ہوتا ہے۔فرمایا کرو تیاری - ۲۱ پھر آپ نے ارد گرد کے قبائل کو اعلان بھجوایا کہ ہر شخص جو اللہ اور رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ رمضان کے ابتدائی دنوں میں مدینہ میں جمع ہو جائے۔چنانچہ لشکر جمع ہونے شروع ہوئے اور کئی ہزار آدمیوں کا لشکر تیار ہو گیا اور آپ لڑنے کے لئے تشریف لے گئے۔اب دیکھو یہ خدائی نوبت خانہ اور کفار کے نوبت خانہ میں ایک بہت بڑا فرق نوبت خانہ کتنا زبردست ہے کہ اُسوقت جب معاہدہ یہ ہوتا ہے کہ لڑائی نہیں ہو گی ، جب قسم کھا کھا کے کہا جاتا ہے کہ ہم اپنے دل سے یہ عہد کرتے ہیں اور خدا کی لعنتیں ہم پر ہوں اگر ہم اس عہد کو توڑیں۔وہاں ابھی ایک رات ہی گزرتی ہے کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ لڑائی ہو گی۔گویا نو بت خانہ بج جاتا ہے اور خبر آتی ہے کہ لڑائی ہونے والی ہے۔اُدھر کفار کے نو بت خانہ کا یہ حال ہے کہ ابوسفیان تین دن مدینہ میں رہ کر آتا ہے اور اُس کو پتہ نہیں لگتا کہ لڑائی ہو گی۔واپس جا کر قوم کو کہتا ہے کہ میں یہ کر آیا ہوں۔انہوں نے کہا لڑائی تو نہیں ہوگی ؟ اُس نے کہا لڑائی نہیں ہو گی۔مگر ادھر وہ مکہ میں پہنچتا ہے اور اُدھر دس ہزار کا لشکر تیار ہوتا ہے۔احزاب کی تاریخ کے سوا اتنا بڑا لشکر عرب کی تاریخ میں تیار نہیں ہوا۔احزاب میں دس بارہ ہزار آدمی تھا۔گویا عرب کی تاریخ میں اتنے بڑے لشکر کی یہ دوسری مثال تھی۔لیکن مدینہ سے اتنا بڑ الشکر نکلتا ہے اور کسی کو اس کی خبر تک نہیں ہوتی اور پھر اللہ تعالیٰ معجزانہ طور پر یہ دکھاتا ہے کہ میں اس نوبت خانہ کو بجاتا ہوں جو میرا ہے اور اُس نوبت خانہ کو تو ڑ رہا ہوں جو اُن کا ہے۔چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو آپ نے فرمایا۔اے میرے خدا! میں تجھ سے دُعا کرتا ہوں کہ تو مکہ والوں کے کانوں کو بہرہ کر دے اور اُن کے جاسوسوں کو اندھا کر دے۔نہ وہ ہمیں دیکھیں اور نہ اُن کے کانوں تک