سیر روحانی — Page 547
۵۴۷ تھے اور رکوع میں گئے ہوئے تھے حالانکہ وہ سب مسلمان نہیں تھے صرف کچھ لوگ مسلمان تھے انہوں نے مبالغہ سے کہا کہ ہم کو سجدے اور رکوع کرتے ہوئے مار دیا ہے۔وہ تو اس امید میں بیٹھے تھے کہ آپس میں دس سال کا معاہدہ ہو چکا ہے اب ہمیں حملہ کا کوئی خطرہ نہیں کوئی کسی کو نہیں چھیڑے گا مگر اچانک قریش اور بنو بکر مل کر اُن پر ٹوٹ پڑے اور انہوں نے خزاعہ کو مارنا شروع کر دیا جو بھاگ سکے بھاگ گئے اور باقی جو اپنے ڈیروں پر رہے وہ مارے گئے لیکن رات کے وقت کسی کی آواز تو نکل جاتی ہے بعض لوگوں کے منہ سے آوازیں نکلیں تو بنو خزاعہ کو پتہ لگ گیا کہ قریش اُن کے ساتھ شامل ہیں۔چنانچہ انہوں نے صبح شور مچا دیا کہ قریش نے بنو بکر سے مل کر ہم پر حملہ کیا ہے۔صرف بنو بکر نے نہیں کیا اور ارد گرد کے لوگوں کو بھی یقین ہو گیا کہ بنو بکر کبھی جرات نہیں کر سکتے تھے جب تک قریش کی مددان کو حاصل نہ ہوتی اس لئے ضرور قریش حملہ میں شامل ہیں۔اس طرح سارے علاقہ میں باتیں شروع ہو گئیں کہ قریش نے معاہدہ توڑ دیا ہے۔چنانچہ مکہ کے رؤساء اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا یہ تو بڑے فکر کی بات ہے معاہدہ ٹوٹ گیا ہے اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موقع مل گیا ہے کہ وہ ہم پر حملہ کر دیں اس کو کسی طرح سنبھالنا چاہئے۔ادھر بنو خزاعہ نے بنو خزاعہ کا وفد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں فوراً چالیس آدمیوں کا ایک وفد تیار کیا انہیں اونٹوں پر سوار کیا اور انہیں کہا کہ رات دن منزلیں طے کرتے ہوئے جاؤ اور مدینہ جا کر خبر دو۔چنانچہ وہ تین دن میں مارا مار کر کے مدینہ پہنچے اور جس طرح آپ کو الہا ماً بتایا گیا تھا اُسی طرح فریاد کرتے ہوئے داخل ہوئے کہ ہم رسول اللہ کو اُس کے خدا کی قسم دلاتے ہیں اور اُسی کا واسطہ دے کر کہتے ہیں کہ ہم نے تمہارے ساتھ اور تمہارے باپ دادوں کے ساتھ ہمیشہ معاہدے کئے اور تمہارے ساتھ وفاداری کی لیکن قریش نے تمہاری دوستی کی وجہ سے رات کو حملہ کر کے ہمارے آدمیوں کو مارا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُسوقت مسجد میں بیٹھے تھے اور تین دن پہلے الہامی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو اس کی خبر بھی مل چکی تھی۔جب آپ نے سُنا تو عمرو بن سالم جو اُن کا لیڈر تھا ، آپ نے اُسے فرما یا گھبراؤ نہیں تمہاری مدد کی جائے گی۔پھر آپ نے فرمایا: ”اگر میں تمہاری مدد نہ کروں تو خدا میری کبھی مدد نہ کرے۔“ پھر آپ نے فرمایا : -