سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 900

سیر روحانی — Page 544

۵۴۴ کہ اس مہینہ میں تو لڑنا جائز ہی نہیں۔وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِ يَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا اور وہ تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے اور تجھے وہ راستہ دکھائے جس کے ذریعہ سے تجھے کامیابی نصیب ہو جائے۔وَيَنْصُرَكَ اللهُ نَصْرًا عَزِيزًا اور اللہ تعالیٰ تیری مدد کرے گا اور مدد بھی معمولی نہیں بلکہ بڑی غالب مدد۔اس میں اِس طرف اشارہ کیا گیا کہ چونکہ مسلمان حملہ نہیں کر سکتے اس لئے تیرے ہاتھ سے تو لڑائی نکل گئی اب ہم ایسا طریق اختیار کریں گے جس سے لڑائی جائز ہو جائے اور وہ طریق یہی ہو سکتا تھا کہ کفا رحملہ کر دیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم خود ایسے سامان کریں گے کہ کفار تجھ پر حملہ کر دیں گے اور پھر اس کے نتیجہ میں وہ تباہ ہو جائیں گے۔يُتِمَّ نِعْمَتَهُ سے بھی یہی مراد ہے کہ عرب شکست کھا جائیں گے اور اسلامی حکومت قائم ہو جائے گی۔کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَقَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوكًا " یعنی موسی نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم! تم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے تم میں اپنے انبیاء مبعوث فرمائے اور اُس نے تمہیں دنیوی بادشاہت کی نعمت سے بھی نوازا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نعمت کی تعریف بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ نعمت الہی اور اس کا اتمام الہی جماعتوں سے دو طرح ہوتا ہے۔اگر ان کا سیاسی مقابلہ ہو تو حصول ملوکیت سے اور اگر خالص مذہبی ہو تو تکمیل نبوت سے۔یعنی دنیا میں جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نبی آتا ہے تو اگر اس سے صرف سیاسی لڑائی ہو تو اللہ تعالیٰ اُسے بادشاہ بنا دیتا ہے اور اگر مذہبی لڑائی ہو تو اس کے دین کو غالب کر دیتا ہے اور اگر سیاسی اور مذہبی دونوں قسم کا مقابلہ ہو تو دونوں قسم کے انعام عطا کئے جاتے ہیں۔یعنی نبوت بھی قائم کی جاتی ہے اور بادشاہت بھی عطا کی جاتی ہے پس یہاں ہم يُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْکَ سے یہی مراد لیں گے کہ اس حملہ کا نتیجہ یہ ہو گا کہ عرب کی حکومت ٹوٹ جائے گی اور مسلمانوں کی حکومت قائم کر دی جائے گی اور يَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيماً میں بتایا کہ تم کو غداری نہیں کرنی پڑے گی۔اللہ تعالیٰ خود ایسا راستہ نکالے گا جس کے نتیجہ میں لڑائی کرنا تمہارے لئے جائز ہو جائے گا اور ہر شخص تمہارے حملہ کو جائز اور معقول قرار دے گا۔اس آیت کے متعلق مفسرین فَتْحًا مُّبِينًا سے مُراد صلح حدیبیہ نہیں بلکہ فتح مکہ ہے میں اختلاف پایا جاتا ہے