سیر روحانی — Page 529
۵۲۹ نے یہاں سے ہلنا نہیں۔دو تین دن میں ہماری اور فوج آپہنچے گی ڈرنے کی کوئی بات نہیں لیکن اگر یہ پتہ نہ ہو کہ ہماری فوجیں کب آئیں گی تو وہ کہتی ہیں یونبی جان کیوں ضائع کرنی ہے چلو لوٹ جائیں اس طرح ان نوبت خانوں کی وجہ سے فوج بڑی مضبوط رہتی ہے۔تیسری غرض نوبت خانوں کی یہ ہوا کرتی تھی کہ وبت خانوں کی تیسری غرض بادشاہ کبھی کبھی لوگوں کو اپنا چہرہ دکھانے کے لئے اور اپنی باتیں سُنانے کے لئے جھروکوں میں بیٹھتے تھے اور اعلان کر دیا جاتا تھا کہ بادشاہ سلامت تشریف لے آئے ہیں جس نے آنا ہے آجائے یہ دربار عام ہوتا تھا۔اُس وقت بھی نوبت بجائی جاتی تھی اور نوبت کے بجنے سے لوگ سمجھ جاتے تھے کہ آج بادشاہ نے باہر آنا ہے۔جو قریب ہوتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ ہمیں بات کرنے کا موقع مل جائے گا ، جو اُن سے بعید ہوتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ ہمیں دیکھنے کا موقع مل جائے گا، جو اُن سے بھی بعید ہوتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ ہمیں ایک جھلک دیکھنے کا موقع مل جائے گا اور جو اور بھی بعید ہوتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ ہم کوشش تو کریں گے نظر آ گیا تو آ گیا ور نہ ہجوم ہی دیکھ لیں گے اس طرح ہزاروں لوگ جمع ہو جاتے تھے۔دتی کے بادشاہوں نے اپنے عہد حکومت میں ایسا طریق رکھا ہوا تھا کہ علاوہ جھروکوں کے وہ بعض دفعہ ایسی جگہ بیٹھتے تھے کہ دریا پار کے لوگ بھی جمع ہو جاتے تھے۔بیچ میں جمنا آتی تھی اور جمنا کے کنارے پر لوگ آکر جمع ہو جاتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اتنی دُور سے بھی اگر ہم نے بادشاہ کو دیکھ لیا تو یہ بھی ہماری عزت افزائی ہے۔1911ء میں جب جارج پنجم دتی میں آئے اور دربار لگا تو میلوں میل تک لوگ کھڑے ہوتے تھے اور سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ آخر وہ کھڑے کیوں ہیں۔بعض دفعہ آدھ آدھ میل پر بادشاہ کی سواری گزرتی تھی مگر لوگ کھڑے ہوتے تھے صرف اتنا دیکھنے کے لئے کہ تالیاں پٹی ہیں اور بادشاہ وہاں سے گزرا ہے۔بس اتنی اطلاع آئی تو خوش خوش وہاں سے آگئے کہ ہم بادشاہ کا جلوس دیکھنے کیلئے گئے تھے۔غرض یہ تین اغراض ان نوبت خانوں کی ہوا کرتی تھیں۔اول سرحدات کی طرف سے مرکز کو اطلاع دینا کہ دشمن حملہ آور ہے۔دوم مرکز کی طرف سے علاقہ کو اطلاع پہنچانا کہ بادشاہ یا اس کا ولیعہد بہ نفس نفیس اپنی فوج کے ساتھ کناروں کی فوجوں کی مدد کے لئے چل پڑا ہے۔تیسرے یہ اطلاع دینا کہ بادشاہ سلامت آج دربار عام منعقد کر رہے ہیں اور عام اجازت