سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 900

سیر روحانی — Page 492

۴۹۲ کے ایک بیٹے نے جو بعد میں مسلمان ہوئے تھے کہا ابا جان! فلاں جنگ میں جب آپ مقام سے گزرے تھے تو اُس وقت میں ایک پتھر کے پیچھے چھپا ہوا تھا میں اگر چاہتا تو آپ کو قتل کر سکتا تھا مگر میں نے کہا باپ کو مارنا درست نہیں۔حضرت ابو بکر نے جواب دیا خدا نے تجھے ایمان نصیب کرنا تھا اس لئے تو بچ گیا ورنہ خدا کی قسم ! اگر میں تجھے دیکھ لیتا تو ضرور مار ڈالتا۔۹۵ عبد اللہ بن ابی بن سلول کے بیٹے کا اخلاص ایک جنگ کے موقع پر انصار اور مهاجرین میں جھگڑا پیدا ہو گیا۔اُس وقت عبد اللہ بن ابی بن سلول جو ایک دیرینہ منافق تھا اُس نے سمجھا کہ یہ انصار کو بھڑ کانے کا اچھا موقع ہے وہ آگے بڑھا اور اُس نے کہا اے انصار ! یہ تمہاری غلطیوں کا نتیجہ ہے کہ تم نے مہاجرین کو سر چڑھا لیا اب مجھے مدینہ پہنچ لینے دو پھر دیکھو گے کہ مدینہ کا سب سے زیادہ معزز شخص یعنی نَعُوذُ باللهِ وہ خود مدینہ کے سب سے ذلیل آدمی یعنی نَعُوذُ باللهِ محمد رسول الله اللہ علیہ وسلم کو وہاں سے نکال دیگا۔عبد اللہ کا بیٹا ایک سچا مسلمان تھا جب اُس نے اپنے باپ کی یہ بات سنی تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! میرے باپ نے جو بات کہی ہے اس کی سزا سوائے قتل کے اور کوئی نہیں ہو سکتی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ اسے یہی سزا دینگے لیکن اگر آپ نے کسی اور مسلمان کو کہا اور اس نے میرے باپ کو قتل کر دیا تو ممکن ہے اُس کو دیکھ کر میرے دل میں کبھی خیال آ جائے کہ یہ میرے باپ کا قاتل ہے اور میں جوش میں آکر اُس پر حملہ کر بیٹھوں اس لئے يَا رَسُولَ اللهِ ! آپ مجھے حکم دیجئے کہ میں اپنے باپ کو اپنے ہاتھوں سے قتل کروں تا کہ کسی مسلمان کا بغض میرے دل میں پیدا نہ ہو۔24 یہ واقعہ کس طرح ان دونوں اوصاف کو ظاہر کر رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام میں ودیعت کر دیئے تھے یعنی ایک طرف وہ کفر کے لئے ایک ننگی تلوار تھے اور دوسری طرف اپنے بھائیوں کے جذبات کا انہیں اتنا احساس تھا کہ عبداللہ کے بیٹے نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر درخواست کی کہ يَا رَسُولَ اللهِ! اگر آپ میرے باپ کے متعلق قتل کا حکم صادر فرما ئیں تو پھر یہ کام میرے سُپر د کیا جائے تاکہ کسی اور مسلمان کا بغض میرے دل میں پیدا نہ ہو۔