سیر روحانی — Page 471
۴۷۱ پاس جا پہنچا اور اُس نے آپ کی ہی تلوار سونت کر آپ کو جگایا اور پوچھا کہ اب آپ کو کون بچا سکتا ہے؟ آپ نے لیٹے لیٹے نہایت اطمینان کے ساتھ فرمایا کہ اللہ ان الفاظ کا اس پر ایسا ہیبت ناک اثر ہوا کہ اس کے ہاتھ کانپ گئے اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً وہ تلوار اپنے ہاتھ میں پکڑی اور اُس سے پوچھا کہ بتا اب تجھے مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ اُس نے کہا آپ ہی رحم کریں تو کریں ورنہ میری نجات کا اور کوئی ذریعہ نہیں۔۲۵ جنگِ اُحد میں خدائی تصرف پھر جنگ اُحد میں ایک وقت ایسا آیا جب بعض صحابہ کی غلطی کی وجہ سے اسلامی لشکر تتر بتر ہو گیا اور آپ کے ارد گرد کی صرف چند صحابہ رہ گئے اور ایک وقت تو ایسا آیا کہ آپ اکیلے نرغہ ء اعداء میں گھر گئے۔ایسے خطر ناک موقع پر اگر خدا کی حفاظت آپ کے شامل حال نہ ہوتی تو دشمن کے لئے آپ کو جانی نقصان پہنچانا کوئی بڑی بات نہ تھی۔ہزاروں مسلح سپاہیوں کے سامنے کسی ایک شخص کی کیا حیثیت ہوتی ہے مگر ان نازک گھڑیوں میں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کے سامنے میدان جنگ میں ڈٹے رہے اور ایک لمحہ کے لئے بھی وہاں سے ہٹ جانے یا خود حفاظتی کے لئے کسی پتھر کے پیچھے چھپ جانے کا خیال بھی آپ کے دل میں پیدا نہیں ہوا۔دشمن آگے بڑھا اور اُس نے آپ پر شدید حملہ کر دیا یہاں تک کہ آپ کے دندانِ مبارک بھی شہید ہو گئے اور آپ بیہوش ہو کر گڑھے میں گر گئے۔دشمن نے سمجھا کہ وہ آپ کو مارنے میں کامیاب ہو گیا ہے مگر جب جنگ کے بادل پھٹے انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صحابہ میں سورج کی طرح دسکتے دیکھا اور یہ خبر اُن پر بجلی بن کر گری کہ آج بھی وہ ہزاروں کا لشکر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور کیوں ایسا نہ ہوتا جبکہ اس گورنر جنرل کے متعلق دربارِ خاص میں یہ اعلان کر دیا گیا تھا کہ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! خدا تجھے لوگوں کے حملوں سے بچائے گا۔جنگ حنین میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ اسی طرح حسنین کی جنگ میں جب صرف بارہ آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسلم کا دشمن کی طرف بڑھتے چلے جانا ارد گرد رہ گئے تھے اور دشمن کے چار ہزار تیر انداز تیروں کی بارش برسا رہے تھے بعض صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آگے بڑھنے سے روکنا چاہا اور کہا کہ يَارَسُولَ اللہ! اس کی