سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 900

سیر روحانی — Page 442

کپڑے دھوئے۔۴۴۲ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے رشتہ داروں اب ہم بتاتے ہیں کہ اس کے کیا معنے ہیں؟ لیکن میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا اور دوستوں کو تبلیغ کرنے کا ارشاد ہوں کہ یہ خالص میرے معنے نہیں بلکہ بعض پہلے صوفیاء نے بھی اس حصہ کے یہ معنے لکھے ہیں پہلے نہیں لکھے لیکن یہ معنے لکھے ہیں ثِيَاب عربی زبان میں لغةً تو کپڑوں اور دل کو کہتے ہیں۔" لیکن محاورہ میں شیاب اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی کہتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعہ سے انسان کی حفاظت ہوتی ہے اس کے عیب چھپتے ہیں اور وہ اس کے گرد لیٹے ہوئے ہوتے ہیں جیسے کپڑا لپٹتا ہے۔پس استعارہ اور مجاز کے طور پر جیسے لوگ کہتے ہیں فلاں سکندر ہے، حاتم ہے مجازاً اور استعارة ثیاب کے معنے دوست رشتہ دار اور قریبی لوگوں کے ہوتے ہیں اور لغنا اس کے معنے کپڑے اور دل کے ہیں۔دل کے معنے میں اس جگہ نہیں لگاتا لیکن میں کہتا ہوں کہ جو معنے بھی لگا و سیاق وسباق کو مد نظر رکھو، میرے نزدیک سیاق و سباق کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے جو معنے بنتے ہیں وہ یہ ہیں کہ اے محمد رسول اللہ ! تو پہلے اپنے بیوی بچوں اور رشتہ داروں کو سمجھا پھر اپنے قریبی دوستوں کو سمجھا پھر اپنی قوم والوں کو سمجھا اور ان کو دینِ اسلام کی تعلیم کی طرف لا۔اب دیکھو یہ معنے یہاں چسپاں ہو جاتے ہیں اور آیات کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ اے تقر ر گورنری کی خبر سنتے ہی وردی پہن کر کھڑے ہونے والے! اور اس بات کی امید رکھنے والے کہ حکم ملتے ہی میں گھوڑے پر چڑھ جاؤں تیار ہو اور ہمیشہ کے لئے اس کام میں مشغول ہو جا جو ہم نے تیرے سپرد کیا ہے اور سب سے پہلے یہ انذار اپنے گھر سے ، اپنی بیوی سے اور اپنے رشتہ داروں اور بچوں سے شروع کر۔اب دیکھ لو یہاں کپڑے دھونے اور انذار کرنے میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ یہ کپڑے دھونا انذار کی تشریح ہے اور ثِيَابَكَ فَطَهِّرُ سے اندار ختم نہیں ہوتا بلکہ جاری رہتا ہے صابن کے گھت گھت کرنے سے تو انذار ختم ہو جاتا ہے لیکن اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو تبلیغ کرنے سے انذار ہوتا ہے ختم نہیں ہوتا۔پس یہ تضاد نہیں بلکہ عین وہی چیز ہے۔