سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 900

سیر روحانی — Page 441

۴۴۱ کپڑے صاف کئے جاتے ہیں۔انگریزوں نے کبھی کپڑے پاک نہیں رکھے، امریکنوں نے کبھی کپڑے پاک نہیں رکھے جب سے نماز شروع ہوئی ہے اُس وقت سے کپڑے پاک رکھے جانے شروع ہوئے ہیں۔دوسرے الفاظ میں اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ ان کے نزدیک پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صفائی کی طرف کوئی رغبت نہیں تھی نماز کا حکم آیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کپڑے صاف رکھو۔پھر سوچو کہ ان آیات کا آپس میں جوڑ کیا ہوا ؟ پہلے معنے کئے اوسونے والے اُٹھ ! پھر کہا اُٹھ اور دنیا میں جا کر انذار کر۔پھر ساتھ ہی کہہ دیا جا اور کپڑے دھو۔اب وہ کپڑے دھوئے کہ انذار کرے دونوں میں جوڑ کیا ہو !؟ اب یہ مولوی فیصلہ کر لیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے ؟ کپڑے دھونے لگتے تھے یا باہر جا کر تبلیغ کرتے تھے۔غرض ایسی بے جوڑ باتیں کرتے ہیں اور اس قسم کی ہتک آمیز باتیں کرتے ہیں کہ در حقیقت اگر وہ غور کریں تو ان کو معلوم ہو کہ اسلام کے ساتھ ان باتوں کا کوئی تعلق ہی نہیں۔ایسی ایسی غیر معقول باتیں کرتے ہیں کہ ہر بُری بات محمد رسول اللہ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔بھلا کوئی سمجھائے کہ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرُ کا اس جگہ جوڑ کیا بنتا ہے۔اگر پہلی آیت کے یہ معنے ہیں کہ اے کمبل لے کر سونے والے! تو یہ اگلے معنے نہیں لگتے کہ اُٹھ اور دنیا میں شور مچا دے۔کمبل لے کر سونے والے نے شور کیا مچانا ہے وہ تو پھر سو جائے گا مگر تھوڑی دیر کے لئے یہ بھی مان لیا کہ اسے ہلایا پانی کے چھینٹے دیئے اور وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا مگر جب وہ تبلیغ کرنے کے لئے نکلا تو ہم نے کہا ٹھہر جا ٹھہر جا کپڑے دھو لے تیرے کپڑے بہت میلے ہیں۔لَا حَولَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ تبلیغ بھی رہ گئی گویا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا پاکیزہ نفس انسان جن کے متعلق قرآن کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ کا وجود ایسا ہے کہ اگر اس پر خدائی نور نہ بھی گرتا تب بھی یہ روشن نظر آ تا یعنی محمد رسول اللہ قرآن کے بغیر بھی پاکیزہ تھے اس مقدس انسان کے متعلق یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ جیسے کوئی پہاڑی گڈریا ہوتا ہے کہ مہینوں اُس کو کپڑے دھونے کی توفیق نہیں ملتی۔محمد رسول اللہ کی شکل بھی نَعُوذُ بِاللهِ ویسی ہی تھی۔پہلے تبلیغ کا حکم دیا پھر خیال آیا کہ بڑی شرمندگی ہوگی لوگوں کو خیال آئے گا کہ کیسے آدمی کو بھیج دیا اس لئے کہہ دیا کہ