سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 900

سیر روحانی — Page 440

۴۴۰ قُمُ فَانْذِرُ کی تشریح آگے آتا ہے قُمْ فَانْذِرُ اس کے معنے وہ یہ کرتے ہیں کہ کھڑا ہو جا اور انذار کر حالانکہ جوکمبل لے کر سویا پڑا ہے اس کے سپر دکوئی عقلمند کام ہی کیوں کرے گا۔وہ تو کہے گا کہ اگر وہ سویا ہوا ہے تو سویا ہی رہے قُمْ فَانُذِرُ کے الفاظ تو بتا رہے ہیں کہ جس کے سپر د کام کیا جاتا ہے وہ اپنے اندر کوئی شان رکھتا ہے، وہ اپنے اندر کوئی عزم رکھتا ہے، وہ اپنے اندر کوئی پختہ ارادہ رکھتا ہے۔وہ قسم کا لفظ لے لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کے معنے کھڑے ہو جانے کے ہیں حالانکہ جس طرح مدقر کے دو معنے ہیں اسی طرح عربی زبان میں قسم کے بھی دو معنے ہیں قسم کے معنے کھڑے ہونے کے بھی ہیں اور قسم کے معنے کسی بات پر ہمیشہ کے لئے قائم ہو جانے کے بھی ہیں۔انہوں نے پہلے کمبل کے معنے کئے پھر کہا اوسونے والے ! کھڑا ہو جا۔ہم نے یہ معنے کئے ہیں کہ اے وہ شخص جو عہد ہ کے مطابق وردی پہنے تیار کھڑا ہے کہ حکم ملتے ہی گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے کام پر چلا جاؤں قم ہمیشہ کے لئے اپنے کام پر لگ جا اور کبھی بھی اپنے کام میں سستی مت دکھا ئیو اور ا بھی اپنے کام سے غفلت مت کیجیو فَانذِرُ اب ہمیشہ ہمیش کے لئے انذار کا مقام اور نبوت کا کام تیرے سپرد کر دیا گیا ہے اب کوئی پینشن نہیں ، کوئی چھٹی نہیں ، ساری عمر کے لئے یہ کام تیرے سپر د کر دیا گیا ہے۔ربَّكَ فَكَبّر کا پہلی آیات سے تعلق تیسری آیت ہے وَرَبَّكَ فَكَبَر اور اپنے رب کی بڑائی کا دنیا میں ڈھنڈورا پیٹ۔اب اس آیت کو ذرا پہلی آیت سے ملاؤ کہ ارے سوئے ہوئے ! ارے کمبل اوڑھ کر لیٹے ہوئے ! ارے نیند کے ماتے اُٹھ ! ڈھنڈورا پیٹ۔بھلا نیند والے نے کیا ڈھنڈورا پیٹنا ہے محض بے جوڑ معنے ہیں جن کا پہلی آیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔لیکن میں نے جو معنے کئے ہیں وہ یہ ہیں کہ اے وردی پہن کر کھڑے ہونے والے! اے حکم ملتے ہی گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہو کر دنیا میں دوڑ جانیوالے ! اب ہمیشہ ہمیش کے لئے خدا کا پیغام پہنچانا تیرے سپر د کیا گیا ہے تو دنیا کو بتا کہ اگر مانو گے تو بچو گے نہیں مانو گے تو تباہ ہو جاؤ گے۔ثِيَا بَكَ فَطَهِّرُ کی مضحکہ خیز تفسیر چوٹی آیت ہے وَثِيَا بَكَ فَطَهَرُ مولوی اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ اپنے کپڑے پاک کر۔وہ کہتے ہیں نماز جو پڑھنی تھی کپڑے پاک کرنا ضروری تھا گویا صرف نماز کے لئے