سیر روحانی — Page 438
۴۳۸۔ان کا نقشہ میں پہلے سُنا دیتا ہوں کہ کیا ہوتا ہے۔وہ کہتے ہیں دربارِ خاص لگا ہوا ہے ، با دشا و خلق وکون کی آمد آمد ہے، چھوٹے چھوٹے درباروں کے اہلکار تو ایسے موقع پر ہمہ تن مصروف عمل ہوتے ہیں ، بھاگ دوڑ ہو رہی ہوتی ہے، افسر قرینہ سے کھڑے ہوتے ہیں اور منتظر ہوتے ہیں کہ بادشاہ آئے تو فوراً اس کا استقبال کریں اور اس کا اعزاز کریں اور اس کی تعریف کریں۔لیکن ہمارے بادشاہ کے دربار کا یہ حال بتایا جاتا ہے کہ بادشاہ سلامت تشریف لاتے ہیں تمام دربار میں خاموشی طاری ہو جاتی ہے اور جس کی خاطر در بارِ خاص لگایا گیا تھا وہ ایک کمبل اوڑھ کر ایک گوشے میں سو پا پڑا ہے اب بادشاہ اس کے پاس پہنچتا ہے ، اُس نے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے ہیں، گھٹنے گھٹنے تک اس کے جسم پر میل چڑھی ہوئی ہے، بادشاہ سلامت آکر اُسے جگاتے ہیں کہ اُٹھ میاں! یہ سونے کا وقت ہے تجھے کام پر بھیجنا تھا تیری خاطر دربار خاص لگایا تھا اور تو کمبل لے کر سو رہا ہے، اُٹھ ! اُٹھ کے کمبل اُتار ، کپڑے دھو، غسل کر ،شرک چھوڑ دے، سُودخوری نہ کر اور مصیبتیں برداشت کر۔یہ دربار ہے جس کا نقشہ ہمارے سامنے کھینچا جاتا ہے۔بھلا جو معمولی معمولی ریاستیں ہیں مثلاً شملہ کی ریاستیں جو پانچ پانچ سات سات ہزار آبادی کی ہیں کیا تم نے کبھی وہاں بھی ایسا در بار دیکھا کہ راجہ نے کسی کو بُلا یا ہو اور جس کے اعزاز میں دربار منعقد کیا گیا ہو اُس کی یہ حالت ہو کہ وہ کمبل میں سو رہا ہے اور اتنی میل چڑھی ہوئی ہے کہ حد نہیں۔کپڑوں سے بدبو آ رہی ہے، پاجامے سے بدبُو آ رہی ہے، راجہ آکر جگاتا ہے اور جگانے کے بعد کچھ ملامت کرتا ہے اور ملامت کر کے کہتا ہے تیرے سپر د فلاں کام کیا جاتا ہے مگر ایسے گند میں باہر جانا بھی ٹھیک نہیں پہلے کپڑے دھولے، غسل کرلے اور پھر جا کر یہ کام کر۔یہ دربار ہے جو غیر احمدی پیش کرتے ہیں۔حقیقی دربار کی جھلک اب میں وہ دربار پیش کرتا ہوں جو حقیقتا قرآن کا در بار ہے اور جو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم سے ہمیں سمجھایا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَأَيُّهَا الْمُدَّثِرُ وِثَار کے ایک معنی عربی زبان میں اس کپڑے کے ہوتے ہیں جو سوتے وقت اوپر لیا جاتا ہے کہ مثلاً کمبل ، لوئی یا لحاف وغیرہ اور لوگوں نے یہاں یہی معنے مراد لئے ہیں۔مگر جب مدثر کہا جائے گا تو لغت کے لحاظ سے اس کے یہ معنی ہونگے کہ وہ کمبل یا لوئی اوڑھ کر بھی سو رہا ہے۔کئی لوگ لوئیاں لے کر تو یہاں بھی بیٹھے ہیں مگر وہ جاگ رہے ہیں۔مدقر تب کہا جائیگا جب کوئی لوئی لے کر سو رہا ہو۔لیکن آجکل کے مولوی کی یہ حالت ہے