سیر روحانی — Page 436
۴۳۶ ہم تم سے بہت خوش ہونگے۔میں پہلے بتا چکا ہوں کہ وہ خوشی کتنی حقیر ہوتی ہے مگر بہر حال یہی سہی لیکن ان کلمات میں بھی کتنی کمزوری پائی جاتی ہے۔اول بادشاہ کہتا ہے ہم تم کو چنتے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ تم کامیاب ہو گے گویا بادشاہ اس کو ایک تخمین ( یعنی اندازہ) سے چنتا ہے اور پھر اس شک میں رہتا ہے کہ معلوم نہیں وہ کامیاب بھی ہوگا یا نہیں۔لیکن اس الہی دربار میں کوئی شک نہیں ہر شخص کو یقین کے ساتھ چنا جاتا ہے اور یقین کیا جاتا ہے کہ وہ کامیاب ہوگا اور یقین کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ وہ کیوں کامیاب نہیں ہو گا۔جب کہ ہم اس کے ساتھ ہیں۔بڑے بڑے جرنیلوں کی ناکامی دنیا میں بسا اوقات بڑے بڑے جرنیل بڑے سکتے ثابت ہوتے ہیں چنانچہ دیکھ لو پچھلی جنگ عظیم میں کس طرح جرنیل بدلے گئے۔پہلی جنگ عظیم میں تین جرنیل یکے بعد دیگرے بدلے گئے تھے دوسری جنگ عظیم میں بھی ایسا ہی ہوا۔ابھی تازہ واقعہ دیکھ لو میکارتھر نے کوریا کی جنگ میں کتنا بڑا ٹھہر ہ حاصل کیا تھا لیکن ٹرومین سے اس کا اختلاف ہو گیا اور لوگوں نے اس کے کان بھر نے شروع کر دیئے کہ اگلی پریذیڈنٹی کے لئے یہ کھڑا ہونا چاہتا ہے اور آپ کا مد مقابل بننا چاہتا ہے چنانچہ جھٹ فساد کی تاریں چھوٹنی شروع ہوئیں اور اسے نکال کر باہر پھینک دیا اب اسے کوئی پوچھتا بھی نہیں۔دوسرے، دنیا میں جب کسی جرنیل پر بھروسہ کیا جاتا ہے تو وہ بھروسہ خیالی اور شکی ہوتا ہے جو آگے چل کر غلط ہو جاتا ہے اور بعض جگہ وہ شکست کھا جاتا ہے یا بعض جگہ وہ کامیاب ہو جاتا ہے لیکن اتنا نتیجہ نہیں نکلتا جتنے نتیجہ کی امید کی جاتی ہے اور بعض دفعہ وہ کامیاب ہو جاتا ہے تو خود بادشاہ کے خلاف لڑنا شروع کر دیتا ہے۔دوسری قوموں کو جانے دو مسٹر چرچل کو ہی دیکھ لو۔اس نے گزشتہ جنگ میں کتنی بڑی قربانی کی۔مگر چند مہینوں کے اندر اندر اس کے ملک نے اسے ایسی خطرناک شکست دی کہ پارلیمنٹ میں اس کی اور اس کے ساتھیوں کی پارٹی نہایت ہی قلیل رہ گئی۔پھر ہندوستان میں گاندھی جی نے کہا کہ مجھے اندر سے آواز آتی ہے اور لگے نبیوں کے سے دعوے کر نے آخر انہی کے ایک چیلے نے اُٹھ کر انہیں پستول مار دیا۔قرآنی در بار خاص میں گورنر جنرل کی ہدایات لیکن اب قرآنی دربار کی سُن لو یہاں ایک بڑے بھاری جرنیل کا تقرر ہوتا