سیر روحانی — Page 415
۴۱۵ بادشاہوں کے لئے اپنی جانیں در بایوں کو ہر وقت یہی مصیبت رہتی تھی کہ ادھر بیویوں کو خوش کرو اور اُدھر شہزادوں کو خوش کرو قربان کر نیوالوں کا حسرتناک انجام گویا قربانیاں کرنے والے اور، مرنے والے اور ، جہاد کرنے والے اور، اپنے مال اور ہے جائدادیں لگانے والے اور ، اور بادشاہت کرنے والے شہزادے اور بیگمات۔تو فرماتا۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى لَمْ يَتَّخِذُوَلَدًا وَّلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكَ فِی الْمُلْكِ دنیا میں قاعدہ یہ ہے کہ جو بادشاہ ہوتے ہیں ان کی اولادیں اور ان کی بیویاں سارا حق لے جاتی ہیں اور قربانیاں کرنے والے ہمیشہ وفادار غلام کہلاتے ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو کہہ دے میں اس بادشاہ کا غلام ہوں کہ لَمْ يَتَّخِذُوَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِیک فِی الْمُلک جس کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ اس کا کوئی بیٹا ہے؟ اس لئے نہ تو اس کی محبت مجھ میں اور ان میں تقسیم ہے، نہ مجھے دو مالکوں کے خوش کرنے کی ضرورت ہے ایک ہی خدا ہے جس سے میرا واسطہ ہے اور اس کی محبت کسی اور کے ساتھ بٹی ہوئی نہیں خالص میرے لئے ہے۔وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِ پھر درباریوں میں سے بعض لوگ بڑی بڑی عزتیں پا جاتے ہیں اور وہ دربار میں خاص عزت پا جانے کی وجہ سے بادشاہ پر ایسے حاوی ہو جاتے ہیں کہ بادشاہ سمجھتا ہے کہ بغیر ان کی مدد کے میرا کام نہیں چل سکتا لیکن ہمارا بادشاہ اس قسم کا نہیں اس کے دربار میں کوئی شخص ایسا نہیں کہ ہمارا خدا اس بات کی احتیاج رکھتا ہو کہ وہ اس کی مدد کرے اسی لئے فرماتا ہے وَكَبَرُهُ تَكْبِيرًا اب تو نڈر ہو کر خدائے واحد کی تکبیر کر کیونکہ اور کوئی شریک نہیں جو تجھ سے مطالبہ کرے کہ تھوڑی سی تکبیر میری بھی کر لیا کر۔اس کا نہ کوئی بیٹا ہے نہ بیٹی اور نہ کوئی شریک ہے۔وہاں تو ڈرتے ہیں کہ بادشاہ کی تعریف کی تو ولیعہد ناراض ہو جائے گا ولیعہد کی تعریف کی تو چھوٹا شہزادہ ناراض ہو جائے گا یہ ایک ہی دربار ہے جوان سارے جھگڑوں سے آزاد ہے۔خوشامد، جھوٹ اور مداہنت کے اڈے حقیقت یہ ہے کہ دنیوی بادشاہوں کے دیوانِ خاص میں یہ تین لہریں ہی پس پردہ چلتی ہیں ، بیٹے اپنا رسوخ چاہتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ بلا استحقاق حکومت ان کی ہو اور قربانی دوسروں کی ، بیویاں علاوہ اپنے نفوذ کے اپنی اپنی اولاد کی تائید میں امراء کو کرنا