سیر روحانی — Page 399
۳۹۹ بات پر مجبور ہے کہ خواہ وہ عملاً شرک ہی کا ارتکاب کر رہی ہو پھر بھی زبان سے وہ یہی کہے کہ خدا ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔خدا اور اُس کے بندے کے درمیان کوئی واسطہ نہیں دیوان عام کی تیسری غرض یہ ہوتی ہے کہ لوگ اپنی فریاد بادشاہ تک براہِ راست پہنچا سکیں۔اس نقطۂ نگاہ سے بھی جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے دیوانِ عام کی اس غرض کو پورا کیا۔تمام مذاہب کہتے ہیں کہ خدا اور اس کے بندے میں کوئی نہ کوئی واسطہ ہونا چاہئے مگر اسلام کہتا ہے کہ خدا اور اس کے بندے کے درمیان کوئی واسطہ نہیں۔نبی کتنی بڑی شان رکھنے والا وجود ہوتا ہے مگر خواہ کوئی بڑے سے بڑا نبی ہو پھر بھی وہ خدا اور بندوں کے درمیان واسطہ نہیں بن سکتا۔احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے دریافت کیا کہ يَارَسُولَ اللہ ! احسان کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا ہے احسان یہ ہے تو نماز اس یقین اور وثوق کے ساتھ پڑھے کہ گویا تو خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اور اگر یہ مقام تمہیں حاصل نہیں تو تمہیں کم سے کم یہ یقین رکھنا چاہئے کہ خدا تم کو دیکھ رہا ہے ؟ اور جب کسی بندے کو خدا دیکھ رہا ہو تو اس کی فریاد کے پہنچنے میں کوئی روک ہی کیا ہو سکتی ہے۔غرض تمام مذاہب ایک واسطہ کے قائل ہیں مگر اسلام اس چیز کا قائل نہیں۔چنانچہ دیکھ لو وہ ایک طرف تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اِس قدر تعریف کرتا ہے کہ فرماتا ہے یہ قیامت تک کے لئے گورنر جنرل مقرر کئے گئے ہیں مگر دوسری طرف جہاں واسطے کا سوال آتا ہے وہاں فرماتا ہے قُلْ إِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم یعنی تو لوگوں سے کہہ دے کہ میں تو تمہاری طرح ایک انسان ہوں۔بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں۔پس اسلام کے نزدیک کسی کو خدا اور بندہ کے درمیان کھڑے ہونے کا حق حاصل نہیں۔الہی دربار میں مظلوموں کی فریاد سننے کا طریق اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس نے فریاد سننے کا طریق کیا مقرر کیا ہوا ہے وہ فرماتا ہے اَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ یعنی ان سے پوچھو کہ کیا کوئی ہمارے جیسا در بار منعقد کرنے والا دنیا میں کوئی بادشاہ ہے؟ حکومتیں دربار عام منعقد کرتی ہیں تو بادشاہ اعلان کرتے ہیں کہ جس شخص پر کوئی ظلم ہوا ہو