سیر روحانی — Page 353
۳۵۳ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا گورنر مقرر کر کے بھجواتے ہیں اگر تم اس کی فرمانبرداری نہیں کرو گے تو ہم خود اس کو طاقت بخشیں گے اور خود اس کو قوت بخشیں گے اور اگر اس کا مقابلہ کرو گے تو ہم تمہیں ایسی سزا دیں گے کہ زمین تو زمین آسمان کا کلیجہ بھی شق ہو جائے گا ( السَّمَاءُ مُنْفَطِرٌ بِه) اور کوئی طاقت نہیں جو ہمارا مقابلہ کر سکے۔قرآنی گورنر جنرل کا دائرہ حکومت اس کے ساتھ ہی یہ اعلان ہوتا ہے کہ یہ گورنر ہے کس جگہ کے لئے ؟ دنیوی گورنر مقرر ہوتے ہیں تو ایک آدھ ملک کے لئے مگر فرماتا ہے کہ یہ گورنر سب دنیا کے لئے ہے گویا یہ گورنر نہیں بلکہ گورنر جزلوں کے بھی اوپر گورنر جنرل ہے۔چنانچہ دربار عام میں اعلان ہوتا ہے قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمُ جَمِيعًا ! اے یہودی مذہب کے مانے والو سنو! یہ شخص جس کو ہم نے بھجوایا ہے موسیٰ کی طرح صرف مصر کے لوگوں کے لئے نہیں۔اے اسرائیلی انبیاء کے ماننے والو! یہ شخص صرف بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح کسی ایک قوم کی طرف نہیں۔اے مسیح کے ماننے والو سنو! مسیح کی طرح فلسطین کی طرف نہیں۔اے کرشن اور رامچندر کے ماننے والو! یہ اس طرح نہیں آیا جس طرح رامچندر اور کرشن ہندوستان کی طرف آئے تھے۔اے زرتشت کے ماننے والوسنو! یہ اس طرح نہیں آیا جس طرح زرتشت ایران کی طرف آیا تھا۔اے تمام دوسری اقوام اور مملکتوں اور بر اعظموں میں رہنے والو سنو! یہ اس طرح نہیں بھیجا گیا جس طرح انبیاء ایک ایک قوم اور ایک ایک بستی کی طرف بھیجے جاتے تھے بلکہ يايُّهَا النَّاسُ اے تمام انسانو! خواہ تم روئے زمین کے کسی علاقہ میں رہتے ہو، اے برطانیہ کے رہنے والو! اے فرانس کے رہنے والو! اے جرمنی کے رہنے والو! اے امریکہ کے رہنے والو! اے یورپ کے رہنے والو! اے جزائر کے رہنے والو! اے افریقہ کے رہنے والو! اے دنیا کے کسی گوشے اور خطہ میں رہنے والو! اسے تم پر افسر بنا کر بھیجا گیا ہے یہ ہمارا گورنر جنرل ہے جس کی حکومت سے کوئی شخص باہر نہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائمی حکومت کا اعلان (۲) پھر یہ تو اپنے زمانہ کی گورنری کے متعلق اعلانِ عام تھا اور گو اس میں سارے ملکوں کو شامل کر لیا گیا تھا مگر یہ مشبہ باقی رہتا تھا کہ ہے یہ سب دنیا کے لئے تو ہو لیکن سب زمانوں کے لئے نہ ہو۔دنیا میں گورنر اور و ممکن