سیر روحانی — Page 344
۳۴۴ کھڑا ہو گیا اور پہلے تو اس عبرت ناک نظارہ پر غور کرتا رہا کہ یہ بلند ترین عمارت جو دہلی پر بطور پہرہ دار کھڑی ہے اس کے بنانے والے کہاں چلے گئے۔وہ کس قدر اولوالعزم، کس قدر با ہمت اور کس قدر طاقت وقوت رکھنے والے بادشاہ تھے جنہوں نے ایسی یادگاریں قائم کیں۔وہ کس شان کے ساتھ ہندوستان میں آئے اور کس شان کے ساتھ مرے مگر آج ان کی اولادوں کا کیا حال ہے۔کوئی ان میں سے بڑھتی ہے، کوئی لوہار ہے، کوئی معمار ہے کوئی موچی ہے اور کوئی میراثی ہے۔میں انہی خیالات میں تھا کہ میرے خیالات میرے قابو سے باہر نکل گئے اور میں کہیں کا کہیں جا پہنچا۔سب عجائبات سفر جو سفر میں میں نے دیکھے تھے میری آنکھوں کے سامنے سے گزر گئے۔دہلی کا یہ وسیع نظارہ جو میری آنکھوں کے سامنے تھا میری آنکھوں کے سامنے سے غائب ہو گیا اور آگرہ اور حیدر آباد اور سمندر کے نظارے ایک ایک کر کے سامنے سے گزرنے لگے آخر وہ سب ایک اور نظارہ کی طرف اشارہ کر کے خود غائب ہو گئے۔میں اسی محویت کے عالم میں کھڑا رہا اور کھڑا رہا اور میرے ساتھی حیران تھے کہ اس کو کیا ہو گیا یہاں تک کہ مجھے اپنے پیچھے سے اپنی لڑکی کی آواز آئی کہ ابا جان دیر ہو گئی ہے۔میں اس آواز کو سنکر پھر واپس اسی مادی دنیا میں آ گیا مگر میرا دل اُس وقت رقت انگیز جذبات سے پر تھا۔نہیں وہ خون ہو رہا تھا اور خون کے قطرے اس سے ٹپک رہے تھے مگر اس زخم میں ایک لذت بھی تھی اور وہ غم سرور سے ملا ہو ا تھا۔میں نے افسوس سے اس دنیا کو دیکھا اور کہا کہ ”میں نے پالیا میں نے پا لیا۔جب میں نے کہا ” میں نے پالیا میں نے پالیا تو اُس وقت میری وہی کیفیت تھی جس طرح آج سے دو ہزار سال پہلے گیا کے پاس ایک بانس کے درخت کے نیچے گوتم بدھ کی تھی جبکہ وہ خدا تعالیٰ کا قرب اور اس کا وصال حاصل کرنے کے لئے بیٹھا اور بیٹھا رہا اور بیٹھا رہا یہاں تک کہ بدھ مذہب کی روایات میں لکھا ہے کہ بانس کا درخت اس کے نیچے سے نکلا اور اُس کے سر کے پار ہو گیا مگر محویت کی وجہ سے اس کو کچھ پتہ نہ چلا۔یہ تو ایک قصہ ہے جو بعد میں لوگوں نے بنالیا اصل بات یہ ہے کہ بدھ ایک بانس کے درخت کے نیچے بیٹھا اور وہ دنیا کے راز کو سوچنے لگا یہاں تک کہ خدا تعالیٰ نے یہ راز اُس پر کھول دیا تب گوتم بدھ نے یکدم اپنی آنکھیں کھولیں اور کہا ” میں نے پالیا میں نے پالیا۔میری کیفیت بھی اُس وقت یہی تھی جب میں اس مادی دنیا کی طرف واپس لوٹا تو بے اختیار میں نے کہا ” میں نے پالیا میں نے پالیا۔اُس وقت میرے پیچھے میری لڑکی امتہ القیوم بیگم کھڑی تھی اُس نے کہا ابا جان ! آپ نے کیا پالیا میں