سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 900

سیر روحانی — Page 321

۳۲۱ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پناہ گزیں ہوئے قلعہ ہند میں ۳۶ اور پناہ ہمیشہ ظلمات کے وقت یعنی رات کو ہی لی جاتی ہے پس جس طرح سورہ نجم سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مینار ہونا ثابت ہوتا ہے مسجد اقصیٰ میں منارہ بنانے کے یہ معنے ہیں کہ جماعت احمدیہ نے پھر دوسری دفعہ مدینہ کے انصار کی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اندر پناہ دی ہے اور ہر احمدی نے آپ کی حفاظت کا اور آپ کے اردگرد اپنی جانیں لڑا دینے کا اقرار کیا ہے جس اقرار کو پورا کرنا آج ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے۔پابندی عہد کی ایک شاندار مثال عرب لوگ تو اپنے اقرار کے اتنے پابند تھے کہ تاریخوں میں لکھا ہے کہ سپین کا ایک رئیس تھا جس کا " ایک ہی بیٹا تھا۔ایک دن اُس کے پاس ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے کہا کہ پولیس میرے تعاقب میں آ رہی ہے مجھے خدا کے لئے پناہ دو۔اُس نے اپنے مکان میں اُسے چھپا دیا۔تھوڑی دیر کے بعد پولیس ایک نوجوان کی لاش اٹھا کر لائی۔یہ اس کے بیٹے کی لاش تھی۔پولیس والوں نے اُسے کہا ہمیں افسوس ہے کہ کسی بدبخت نے آج آپ کے بیٹے کو مار ڈالا ہے قاتل بھاگ کر اسی طرف آیا تھا کیا آپ نے اُسے دیکھا نہیں؟ اُس نے کہا مجھے تو معلوم نہیں۔یہ سن کر پولیس والے چلے گئے۔اُس نے اپنے بیٹے کی لاش کو کمرے میں بند کیا اور قاتل کی طرف گیا اور اسے اشارہ سے اپنے پاس بُلا کر کہا کہ یہ شخص جس کو تم نے قتل کیا ہے میرا بیٹا تھا لیکن چونکہ میں تمہیں پناہ دے چکا ہوں اس لئے میں اب تمہیں کچھ نہیں کہتا اس کے بعد اُس نے اسے اپنی جیب میں سے کچھ روپے نکال کر دیئے اور کہا یہ روپے لو اور کسی اور جگہ چلے جاؤ اگر تم سپین میں ہی رہے تو ممکن ہے میرا نفس کبھی مجھے اشتعال دلائے کہ یہ میرے بیٹے کا قاتل ہے اور میں تجھے مار ڈالوں اس لئے روپے لو اور چین سے کہیں باہر چلے جاؤ۔چنانچہ اس نے روپے دیئے اور اپنے اکلوتے بیٹے کے قاتل کو اپنے مکان کے پچھواڑے سے باہر نکال دیا۔اب دیکھو یہ ایک سچے مسلمان کی حالت تھی کہ نہ صرف وہ اپنے اکلوتے بیٹے کے قاتل کی جان بچاتا ہے بلکہ اُسے بھاگنے کے لئے روپے بھی دیتا ہے اس لئے کہ اس نے اُسے پناہ دی تھی پھر کتنی بڑی ذمہ داری ہے اُس مسلمان پر جو اپنے بیٹے کے قاتل کو نہیں بلکہ اپنی جان بچانے والے کو ، اپنے بیٹوں کی جان بچانے والے کو، اپنی بیوی اور بچوں کی جان بچانے والے کو اپنے گھر میں پناہ دیتا ہے اور پھر اس سے غداری کرتا ہے۔