سیر روحانی — Page 311
۳۱۱ پیدا کرے جو لوگوں کو گمراہی سے بچا کر نور و ہدایت کی طرف لائے یہاں آ کر خدا تعالیٰ نے درمیان میں سے اس مضمون کو حذف کر دیا ہے کہ اس ارادہ کے مطابق اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا۔پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چنا اور چن کر کہا کہ یہ وہ شخص ہے جو اس قابل ہے کہ میں اسے برکت دوں اور اسے دنیا کے لئے ایک نمونہ بناؤں۔محمد رسول اللہ کا خدا تعالیٰ کی طرف صعود اس کے بعد فرماتا ہے دَنَا جب خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چنا اور انہیں آواز دی کہ اے محمد رسول اللہ ! تو میرے پاس آ کہ میں نے تجھے دنیا کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے چن لیا ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونچا ہونا شروع کیا۔یہاں مینار کا لفظ استعمال نہیں ہوا اگر تمثیلی زبان میں ایک مینار کا ہی ذکر کیا گیا ہے کیونکہ پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ وَهُوَ بِالَا فُقِ الأغلى خدا تعالیٰ او پر بیٹھا ہوا ہے اور وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کرتا ہے اور انہیں اپنی طرف بلاتا ہے۔اس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کی طرف صعود شروع کیا دنی کے معنی یہی ہیں کہ وہ قریب ہوتے گئے یعنی خدا سے ملنے کے لئے اوپر ہوتے گئے گویا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام محمدی سے اوپر چڑھنے شروع ہوئے اور آخر آپ عرش تک جا پہنچے ( چنانچہ معراج میں ایسا ہی ہوا )۔خدا تعالیٰ کا بنی نوع انسان کی نجات کے لئے آسمان سے نزول مگر سوال یہ ہے کہ ان میں تو طاقت تھی کہ وہ خدا تعالیٰ تک پہنچ جائیں ہر شخص تو اتنا اونچا نہیں جا سکتا۔بے شک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اخلاص اور محبت اور فدائیت کے لحاظ سے اپنے اندر یہ استعداد رکھتے تھے کہ خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کر سکیں لیکن وہ لوگ جن کی اصلاح کے لئے آپ مقرر ہوئے تھے ان میں سے ہر شخص میں تو یہ طاقت نہیں تھی کہ وہ اتنا اونچا جا سکتا ان لوگوں کے لئے ضروری تھا کہ خدا تعالیٰ نیچے کی طرف نزول کرتا۔چنانچہ فرماتا ہے فَتَدَلَّى۔تَدَلَّی کے معنے ہیں اوپر کی چیز نیچے آ گئی یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اوپر چڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ چڑھتے چڑھتے آپ نے اپنے مقصود کو پالیا مگر جب آپ نے اوپر چڑھنا شروع کیا تو خدا تعالیٰ نے کہا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو آگئے باقی لوگ نہیں آ سکتے تب خدا تعالیٰ کچھ نیچے آیا تا کہ کمزور مخلوق کی نجات کی بھی صورت بنے اور اُس نے ایک زاویہ بنا دیا جہاں ہر انسان