سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 900

سیر روحانی — Page 279

۲۷۹ نے کہا ابا جان آپ نے کیا پا لیا؟ میں نے کہا میں نے بہت کچھ پالیا ہے لیکن میں اب تمہیں نہیں بتا سکتا ، میں جلسہ سالانہ پر تقریر کرونگا تو تم بھی سُن لینا کہ میں نے کیا پایا ہے۔پر پہلی تقریر چنانچہ میں نے پہلی تقریر ۱۹۳۸ء میں کی جس میں میں نے تین مضامین بیان کئے تھے۔وہ آثار قدیمہ جو قرآن کریم نے پیش کئے ہیں۔قرآن کریم ایک وسیع سمند ر کو پیش کرتا ہے۔قرآن کریم ایک وسیع جنتر منتر کو پیش کرتا ہے۔دوسری تقریر ۱۹۴۰ء میں میں نے دوسری تقریر کی جس میں میں نے یہ ذکر کیا کہ قرآن کریم بھی ایک قلعہ پیش کرتا ہے جس کے مقابلہ میں دنیوی قلعے کوئی حقیقت نہیں رکھتے اور قرآن کریم بھی ایک وسیع مسجد پیش کرتا ہے ایسی مسجد جس کے مقابلہ میں مٹی اور اینٹوں کی بنائی ہوئی مسجد میں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔تیسری تقریر ۱۹۴۱ء میں میں نے یہ بیان کیا کہ دنیا کے مقابر کے مقابلہ میں اسلام نے کونسے مقابر پیش کئے ہیں اور دنیوی مینا بازاروں کے مقابلہ میں اسلام نے کونسا مینا بازار پیش کیا ہے۔نو (۹) مضمون ابھی باقی ہیں جن میں میں نے اپنے خیالات کا ابھی تک اظہار نہیں کیا۔میں چاہتا ہوں کہ ان نو (۹) مضامین میں سے آج صرف ایک مضمون کو بیان کر دوں۔فضائل القرآن پر لیکچر ۱۹۴۱ء کے بعد اس وقت تک مجھے اس مضمون پر بولنے کا موقع نہیں ملا ، کیونکہ درمیان میں بعض اور ضروری مضامین آ گئے تھے جن کے متعلق تقریر کرنا ضروری تھا، اسی طرح ایک اور مضمون بھی نامکمل چلا آ رہا ہے جو فضائل القرآن کا مضمون ہے۔پانچ لیکچر میں اس مضمون پر دے چکا ہوں، لیکن ابھی بہت سے لیکچر باقی ہیں۔درمیانی عرصہ میں مختلف حالات کی وجہ سے جو مضامین آ جاتے رہے ہیں ان کی وجہ سے یہ دونوں مضمون ابھی نامکمل ہیں، لیکن بہر حال میں آج کے ایک پہلو کو بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔مادی میناروں کے مقابلہ میں اسلام کا پیش کردہ مینار میں نے بیان کیا تھا کہ میں نے اپنے سفر میں