سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 900

سیر روحانی — Page 273

۲۷۳ کوشش کرو۔وہ اس زمانہ میں پھر تمہارے پاس ایک گاہک کی صورت میں آیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اُس کی یہ آواز بلند ہوئی ہے کہ اپنی جانیں اور مال مجھے دو اور جنت مجھ سے لے لو۔وہ تم سے سودا کرنا چاہتا ہے مگر سودا کرنے کے لئے اُس نے کی خود اپنے پاس سے تم کو جان اور مال دیا ہے۔پس جان بھی اُسی کی ہے اور مال بھی اُسی کا۔مگر وہ یہ فرض کر کے کہ یہ چیزیں اُس کی نہیں بلکہ تمہاری ہیں تمہارے پاس ایک گاہک کی صورت میں چل کر آیا ہے اور وہ تم سے تمہاری جانوں اور مالوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔تمہاری خوش قسمتی ہوگی اگر تم اس آواز کو سنتے ہی کھڑے ہو جاؤ اور کہو کہ اے ہمارے آقا ! آپ ہم سے اپنی ہی چیز مانگ کر ہمیں کیوں شرمندہ کر رہے ہیں، ہم اپنی جانیں آپ کے قدموں پر شار کرنے کے لئے تیار ہیں اور اپنے اموال آپ کی راہ میں لگانے کے لئے حاضر ہیں۔جب تم اس طرح اپنی جانوں اور اپنے اموال کی قربانی کرنے کے لئے کھڑے ہو جاؤ گے تو تم دیکھو گے کہ تمہاری جان بھی تمہارے پاس ہی رہتی ہے اور تمہارا مال بھی تم سے چھینا نہیں جاتا۔مگر اس ارادہ نیک اور عملی پیشکش کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارا آقا تم سے ہمیشہ کے لئے خوش ہو جائے گا اور وہ تمہیں اُس کی ابدی جنت میں داخل کرے گا جس کی نعمتیں لازوال ہیں اور جس کے مقابلہ میں دُنیوی مینا بازار اتنی بھی حقیقت نہیں رکھتے جتنی ایک سورج کے مقابلہ میں ایک ٹمٹماتی ہوئی شمع کی حقیقت ہوتی ہے۔وہ اس اقرار کے نتیجہ میں ہی تمہاری غلامی کی زنجیروں کو کاٹ کر پرے پھینک دے گا۔وہ تمہارے سلاسل اور آہنی طوق تمہاری گردنوں سے دُور کر دے گا۔تم پھر دنیا میں سر بلند ہو گے، پھر اپنی گردن فخر سے اونچی کر سکو گے۔پھر ایک عزت اور وقار کی زندگی بسر کر سکو گے۔لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ اتنا چھوٹا سا کام بھی اس کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتا، پس آؤ ہم اُس کے حضور جھکیں اور اُسی سے یہ التجا کریں کہ اے ہمارے آقا! تو ہمیں اپنی محبت سے حصہ دے، تو اپنے عشق کی آگ ہمارے دلوں میں سلگا ، تو اپنے نور کی چادر میں ہم کو لپیٹ لے اور ہر قسم کی شیطانی راہوں سے بچا کر ہمیں اپنے قرب اور اپنی محبت کے راستوں پر چلا، کیونکہ حقیقی حریت وہی ہے جو تیری غلامی میں حاصل ہوتی ہے اور بدترین غلامی وہی ہے جو تجھ سے دُوری کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔پس آؤ اس جُھوٹی خریت کے خیالات کو جو دنیا میں بدترین غلامی پیدا کرنے کا موجب ہیں اپنے دلوں سے دُور کرو اور جلد سے جلد اُس خدائی آواز پر جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ بلند ہوئی ہے اپنی جانیں اور اپنے اموال اُس کے حضور پیش کر دو تا کہ تمہیں حقیقی آزادی