سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 900

سیر روحانی — Page 238

۲۳۸ کھائیں گا؟ میں نے سمجھا کہ آپس میں باتیں ہو رہی ہیں اور ایک شخص دوسرے سے پوچھ رہا ہے کہ تم پکوڑے کھاؤ گے؟ مگر تھوڑی دیر کے بعد مجھے پھر آواز آئی کہ سند رسنگھا پکوڑے کھائیں گا اور وہ شخص جو گھوڑے پر سوار تھا برابر آگے بڑھتا چلا گیا، یہاں تک کہ وہ اُس موڑ پر جا پہنچا جو مسجد مبارک کی طرف جاتا ہے مگر وہ برابر یہی کہتا چلا گیا کہ سند رسنگھا! پکوڑے کھا ئیں گا ؟ سندر سنگھا! پکوڑے کھائیں گا ؟ آخر گھوڑے کے قدموں کی آواز غائب ہو گئی اور آدھ گھنٹہ یر گزر گیا مگر میں نے دیکھا وہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہیں گلی میں بیٹھا ہوا یہ کہتا چلا جاتا تھا کہ سُندرسنگھا! پکوڑے کھا ئیں گا ؟ سند رسنگھا! پکوڑے کھا ئیں گا ؟ حالانکہ سند رسنگھ اُس وقت گھر میں بیٹھا ہو اپھلکے کھا رہا ہو گا۔دراصل وہ شراب کے نشے کی وجہ سے اُس سے چلا نہیں جاتا پر ایسا پردہ پڑا ہوا تھا کہ وہیں دیوار کے ساتھ بیٹھا ہوا وہ سُند رسنگھ کو پکوڑوں کی اس پر تھا اور عقل دعوت دیتا چلا جاتا تھا۔تو شراب کی کثرت کی وجہ سے ٹانگوں کی طاقت جاتی رہتی ہے،عقل زائل ہو جاتی ہے قویٰ کو نقصان پہنچتا ہے اور انسان بہکی بہکی باتیں کرنے لگتا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ شراب پلا کر ہم کہیں گے۔سَلُ سَبِيلا - اب تمہاری سب کمزوری رفع ہوگئی ہے تو اپنے راستہ پر دوڑ پڑو۔دوسرے معنے اس کے سَأَلَ يَسْأَلُ کے بھی ہو سکتے ہیں، یعنی سوال کر ، پوچھ ، دریافت کر۔اس کا امر بھی مل ہی بنتا ہے۔یعنی دنیا میں شراب پینے والا جب بہت سی شراب پی لیتا ہے تو اُس کی عقل ماری جاتی ہے ، مگر وہ شراب ایسی ہوگی کہ جب وہ پلائی جائے گی تو اُسے کہا جائے گا کہ اب تیری عقل تیز ہو گئی ہے تو روحانیت اور معرفت کی ہم سے نئی نئی باتیں پوچھ۔گویا اُس شراب سے ایک طرف قوت عملیہ بڑھ جائے گی اور دوسری طرف قوتِ عقلیہ بڑھ جائے گی اور وہ خدا تعالیٰ سے کہے گا کہ خدایا مجھے اور رُوحانی علوم دیئے جائیں اور اس کے بدن میں ایسی طاقت آجائے گی کہ جس طرح دریا اپنی روانی میں بہتا ہے اسی طرح وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں بہنے لگ جائے گا۔پھل اور گوشت (۴) چوتھی بات جو ڈ نیوی مینا بازاروں میں پائی جاتی ہے وہ کھانے کی چیزیں ہیں ، میں نے اس جنت میں دیکھا تو اس میں بھی یہ سب سامان ۵۶ موجود تھے چنانچہ فرماتا ہے وَفَاكِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُونَ - وَلَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُونَ ٥٦ کہ جنت میں کھانے کو پھل ملیں گے جو بھی وہ پسند کریں گے ، یہاں ہم بعض دفعہ بعض