سیر روحانی — Page 150
۱۵۰ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نفس کے دبانے کو اتنی اہمیت دی ہے کہ آپ فرماتے ہیں۔لَيْسَ الشَّدِيدُ بالصُّرُعَةِ إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ ۵۷ کہ بہادر اُس کو نہیں کہتے جو کشتی میں دوسرے کو رگرالے، بہادر وہ ہے جسے غصہ آئے تو وہ اُسے روک لے۔پس بہادر غلام محمد پہلوان نہیں ، بڑا بہا در سگر سنگھ پہلوان نہیں بلکہ بڑا بہادر وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے جذبات پر قابورکھے اور اُس کو روک لے۔اس بارہ میں حضرت علی کی ایک مثال بڑی ایمان افزاء ہے۔جنگ خیبر میں ایک بہت بڑے یہودی جرنیل کے مقابلہ کے لئے نکلے اور بڑی دیر تک اس سے لڑتے رہے چونکہ وہ بھی لڑائی کے فن کا ماہر تھا اس کی لئے کافی دیر تک مقابلہ کرتا رہا، آخر حضرت علیؓ نے اُسے گرا لیا اور آپ اس کی چھاتی پر چڑھ کر بیٹھ گئے اور ارادہ کیا کہ تلوار سے اُس کی گردن کاٹ دیں۔اتنے میں اس یہودی نے آپ کے منہ پر تھوک دیا۔اس پر حضرت علی اُسے چھوڑ کر الگ کھڑے ہو گئے۔وہ یہودی سخت حیران ہو ا کہ انہوں نے یہ کیا کیا ؟ جب یہ میرے قتل پر قادر ہو چکے تھے تو انہوں نے مجھے چھوڑ کیوں دیا۔چنانچہ اس نے حضرت علیؓ سے دریافت کیا کہ آپ مجھے چھوڑ کر الگ کیوں ہو گئے ؟؟ آپ نے فرمایا کہ میں تم سے خدا کی رضا کے لئے لڑ رہا تھا مگر جب تم نے میرے منہ پر تھوک دیا تو مجھے غصہ آگیا اور میں نے سمجھا کہ اب اگر میں تم کوقتل کرونگا تو میرا اقتل کرنا اپنے نفس کے لئے ہوگا ، خدا کے لئے نہیں ہوگا۔پس میں نے تمہیں چھوڑ دیا تا کہ میرا غصہ فرو ہو جائے اور میرا تمہیں قتل کرنا اپنے نفس کے لئے نہ رہے۔یہ کتنا عظیم الشان کمال ہے کہ عین جنگ کے میدان میں انہوں نے ایک شدید دشمن کو محض اس لئے چھوڑ دیا تا کہ اُن کا قتل کرنا اپنے نفس کے غصہ کی وجہ سے نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہو۔لالچ اور حسد کی ممانعت (۴) امن کے بر بادکرنے کا چوتھا سب لانچ ہوتاہے اللہ تعالیٰ اس سے بھی روکتا اور فرماتا ہے اَمُ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا اتَهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۵۸ کہ یہودی قوم بھی کوئی قوم ہے کہ خدا تو لوگوں پر فضل کرتا ہے اور یہ حسد سے مری جاتی ہے دوسری جگہ فرماتا ہے وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللهُ بِهِ بَعْضَكُم عَلى بَعْضٍ ؟ خدا نے دنیا میں مختلف قوموں پر جو فضل کئے ہیں ان کی وجہ سے ان قوموں سے حسد نہ کرو بلکہ اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل طلب کرو۔