سیر روحانی — Page 134
۱۳۴ کر دی جائیں تو ماننے والوں کی جانیں نکل جائیں کیونکہ ان کو نبی سے ایسی شدید محبت ہوتی ہے کہ وہ یہ برداشت ہی نہیں کر سکتے کہ وہ تو زندہ رہیں اور نبی فوت ہو جائے اس لئے نبی کے زمانہ میں خلافت کی طرف صرف اشارے کر دئیے جاتے ہیں۔یہی حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کا تھا، وہ یہ خیال بھی نہیں کر سکتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو فوت ہو جائیں گے اور وہ زندہ رہیں گے۔مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو انصار نے خلافت کے متعلق الگ مشورہ شروع کر دیا اور مہاجرین نے الگ۔انصار نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم شہر والے ہیں اور مہاجرین باہر کے رہنے والے ہیں ، اس لئے باہر سے آنے والوں کا کوئی حق خلافت میں تسلیم نہیں کیا جاسکتا، یہ ہمارا ہی حق ہے اور لیڈ ر ہم میں سے ہی ہونا چاہئے۔مہاجرین کو جب یہ اطلاع ملی تو ان میں سے بھی بعض وہیں آگئے۔حضرت ابوبکر ، حضرت عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت ابو عبیدہ ان میں شامل تھے۔یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہ اپنے ذاتی مفاد کے لئے وہاں گئے تھے بلکہ وہ اسلام میں تفرقہ پیدا ہونے کے خوف سے وہاں گئے اور انہوں نے چاہا کہ انصار کوئی ایسا فیصلہ نہ کریں جو مسلمانوں کے لئے مضر ہو۔غرض جب یہ وہاں پہنچے تو میٹنگ ہو رہی تھی۔مہاجرین نے کہا کہ پہلے ہماری بات سُن لو اور وہ یہ ہے کہ عرب لوگ آپ کی اطاعت کے عادی نہیں، اگر انصار میں سے کوئی خلیفہ ہو ا تو مسلمانوں کو بہت سی مشکلات پیش آنے کا ڈر ہے اس لئے مکہ کے لوگوں میں سے آپ جس کو چاہیں اپنا امیر بنا لیں مگر انصار میں سے کسی کو نہ بنائیں۔اس پر کی ایک انصاری نے کہا کہ اگر آپ لوگ ہماری بات نہیں مانتے تو پھر مِنَّا أَمِيرٌ وَ مِنْكُمُ اَمِيرٌ چلو ایک خلیفہ ہمارا ہو جائے اور ایک آپ کا۔حضرت ابوبکر نے اس کے نقائص بیان کئے اور آخر میں فرمایا کہ اگر انصار میں سے کوئی خلیفہ ہوا تو عرب کے لوگ اسے نہیں مانیں گے۔اس پر بعض انصار جوش میں کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا اس کے معنے یہ ہیں کہ انصار ہمیشہ غلامی ہی کرتے رہیں؟ وہ اس وقت بھی مہاجرین میں سے کسی کو خلیفہ مان لیں اور بعد میں بھی مہاجرین میں خلیفہ بنتے رہیں، انصار میں سے کوئی خلیفہ نہ بنے اور اس طرح وہ ہمیشہ کے لئے غلام اور ماتحت رہیں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ سنکر انصار کو بہت سی نصیحتیں کیں اور فرمایا ہم آپ لوگوں کا احسان مانتے ہیں، مگر آپ کو اس وقت یہ دیکھنا چاہئے کہ اسلام کا فائدہ کس بات میں ہے؟ یہ سنکر ایک انصاری کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایک تقریر کی جو اسلامی تاریخ میں ہمیشہ