سیر روحانی — Page 91
۹۱ آواز بلند ہوئی تھی کہ ہوشیار ہو جاؤ۔گو تمہارے گھر ڈاکوؤں کا شکار ہو رہے ہیں مگر اب خدا خود تمہاری حفاظت کے لئے آ رہا ہے۔پس ہم نے خود اس کتاب کے ذریعہ اپنے بندوں کو ہوشیار اور بیدار کیا۔منذر کے عام طور پر نہایت غلط معنے کئے جاتے ہیں ، یعنی اُردو میں اس کا ترجمہ یہ کیا جاتا ہے کہ ہم ڈرانے والے ہیں ، حالانکہ عربی زبان میں انذار کے معنے ڈرانا نہیں بلکہ ہوشیار اور بیدار کرنا ہیں۔تو فرمایا گو یہ رات تھی اور تاریک رات تھی ، چاروں طرف ڈا کے پڑ رہے تھے اور دین وایمان کہیں نظر نہیں آتا تھا مگر پھر بھی یہ مبارک رات تھی کیونکہ اس میں خدا خود چوکیدار بن کر آیا اور اس نے خود پہرہ دیا اور آوازیں دیں کہ میرے بندو! ہوشیار ہو جاؤ ، بھلا اس سے زیادہ مبارک رات اور کونسی ہو سکتی ہے۔فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيمٍ یہ مبارک رات کیوں نہ ہو، راتوں کے وقت چوروں کی طرف سے مال اٹھایا جاتا ہے مگر اس رات میں لوگوں کو خود ہماری طرف سے مالا مال کیا جا رہا ہے اور انہیں بلا بلا کر کہا جا رہا ہے کہ آؤ اور اپنے گھروں کو برکتوں سے بھر لو۔امرا مِنْ عِندِنَا یہ سب کچھ ہمارے حکم کے ماتحت ہو رہا ہے کیونکہ آج ہم اس بات پر تلے ہوئے ہیں کہ لوگوں کو نعماء سے مالا مال کر دیں۔پس اس سے زیادہ مبارک رات اور کون سی ہو سکتی ہے کہ بغیر مانگے اور سوال کئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانی ضرورتیں پوری کی جاتی رہی ہیں۔اَمْرٍ حَکیم سے مراد وہی معارف اور علوم ہیں جو بغیر کسی انسانی کوششوں کے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کھولتا ہے۔اگر کوئی شخص روٹی کھا رہا ہو اور کوئی دوسرا آ کر اُسے کہے کہ تو روٹی کھا رہا ہے تو وہ حکیم نہیں کہلا سکتا ، حکیم وہی کہلائے گا جو ایسی بات بتائے جس کا دوسرے کو علم نہ ہو۔پس قرآن صرف کلام ہی نہیں بلکہ اَمْرٍ حَکیم ایسے حقائق اور معارف کا حامل ہے کہ بندے لاکھ سر پٹکتے رہتے وہ ان علوم اور معارف کو اپنی ذاتی جد وجہد سے کبھی حاصل نہ کر سکتے۔اسی طرح سورہ یوسف میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے متعلق فرماتا ہے۔مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَى وَلَكِنْ تَصْدِيقَ الَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ کہ یہ بات جھوٹی نہیں۔یہ پہلی کتابوں کی پیشگوئیوں کو پورا کر رہی ہے اور ہر چیز اس میں بیان کر دی گئی ہے اور یہ مؤمنوں کی ہدایت اور رحمت کا موجب ہے۔(۵) سوره عنکبوت میں فرماتا ہے۔اَوَلَمْ يَكْفِهِمُ اَنَّا اَنْزَ لَنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ