سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 900

سیر روحانی — Page 76

عَلَيْهِ الْعَذَابُ۔وَمَنْ يُهِنِ اللَّهُ فَمَالَهُ مِنْ مُّكْرِمٍ۔إِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ عَ یعنی اے بیوقوفو! کیا تمہیں معلوم نہیں آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے اور سورج ، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے اور انسانوں میں سے بھی بہت سے لوگ سب خدا تعالیٰ کی اطاعت میں لگے ہوئے ہیں اور بہت سے ایسے بھی ہیں جن کے لئے عذاب مقرر ہو چکا ہے اور جسے خدا ذلیل کرے اُسے کوئی عزت نہیں دے سکتا، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔غرض بتایا کہ دنیا میں جس قدر چیزیں ہیں وہ سب ایک قانون کے ماتحت چل رہی ہیں ، سورج کیا اور چاند کیا اور ستارے کیا اور پہاڑ کیا اور درخت کیا سب ایک خاص نظام کے ماتحت حرکت کرتے ہیں اور ہر ایک کے منہ میں لگام پڑی ہوئی ہے پھر تم ان چیزوں کو جن کو خود لگا میں پڑی ہوئی ہیں خدا کس طرح قرار دیتے ہو۔یہ چیزیں تو خود تمہارے آگے آگے بطور خدمت گا رچل رہی ہیں مگر تم ایسے احمق ہو کہ تم انہی کے آگے ہاتھ جوڑے کھڑے ہو اور اس طرح اپنے آپ کو ذلیل کر رہے ہو اور یہ اس امر کی سزا ہے کہ تم نے اپنے پیدا کرنے والے خدا کو چھوڑ دیا۔پس اُس نے تم کو تمہارے ہی غلاموں کا غلام بنا دیا وَ مَنْ يُهِنِ اللَّهُ فَمَالَهُ مِنْ مُّكْرِم اور جسے خدا ذلیل کر دے اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا۔(۳) تیسری بات مجھے یہ معلوم ہوئی کہ سورج کو ضیاء اور چاند کوٹو ر بنایا گیا ہے۔سورج اپنی ذات میں روشن ہے اور چاند دوسرے سے روشنی اخذ کرتا ہے چنانچہ میں نے دیکھا کہ قرآن مجید میں لکھا ہوا ہے۔هُوَ الَّذِى جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاء وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَ الْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ۔يُفَصِّلُ الْآيَتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ^ کہ خدا ہی ہے جس نے سورج کو ضیاء بنایا اور چاند کونور۔ضیاء کے معنے ہیں اپنی ذات میں جلنے والی اور روشن چیز۔اور نور اُسے کہتے ہیں جو دوسرے کے اثر کے ماتحت روشن ہو۔پس خدا تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بتادیا کہ سورج تو اپنی ذات میں روشن ہے مگر چاند سورج سے اکتساب نور کرتا ہے۔پھر اسی مضمون کو میں نے ایک اور لطیف طرز میں بھی قرآن کریم میں موجود پایا چنانچہ میں نے دیکھا کہ قرآن مجید میں لکھا ہے۔اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّهُ سَبْعَ سَمَوَاتٍ طِبَا قَاً وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا ۲۹