سیر روحانی — Page 75
۷۵ گھبراہٹ میں نہ وہ اس کی سنتا تھا اور نہ یہ اس کی مگر آخر دونوں کے ہوش کچھ بجا ہونے لگے اور انہوں نے دیکھا کہ نہ وہ اس کو ذبح کرتا ہے اور نہ یہ اس کی جان نکال رہا ہے بلکہ دونوں ایک دوسرے کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہے ہیں یہ دیکھ کر اُن کی عقل کچھ ٹھکانے لگی اور حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور قصاب نے جو غور کیا تو اپنے سامنے رات والا پادری بیٹھا دیکھا اور حیرت سے پوچھا کہ تم یہاں کہاں؟ اس نے کہا کہ رات کو ہم نے تم میاں بیوی کو یہ کہتے ہوئے سن پایا تھا کہ موٹے کو صبح ذبح کر دینگے اور ڈبلے کو کچھ دن کھلا پلا کر۔اس لئے ہم کھڑکی سے گود کر بھاگے اور میرا چونکہ پاؤں چوٹ کھا گیا تھا میں اس سو رخانہ میں کر بیٹھ گیا اور میرا ساتھی فوج کی مدد لینے گیا ہے۔اس پر قصاب نے بے اختیار ہنسنا شروع کیا اور بتایا کہ ان کے دوسو ر ہیں ایک موٹا اور ایک دُبلا۔وہ تو ان سؤروں میں سے موٹے کے ذبح کرنے کی تجویز کر رہے تھے اور آہستہ آہستہ اس لئے بول رہے تھے کہ مہمانوں کی نیند خراب نہ ہو۔اتنے میں سرکاری سوار بھی آگئے اور اس حقیقت کو معلوم کر کے سب ہنستے ہنستے لوٹ گئے۔یہی حال ستارہ پرستوں کا ہے۔اللہ میاں نے ان کو انسانوں کی خدمت کے لئے مقرر کیا ہے اور وہ انسان کی خدمت کر رہے ہیں مگر انسان ہے کہ ان کے آگے ہاتھ جوڑ رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ خدا کے لئے ہم پر رحم کرو۔گویا ستارے اس کے غلام بن رہے ہیں اور یہ ان کا غلام بن رہا ہے۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے آخر میں بیان کی ہے کہ اِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ یہ سب انسانوں کے خدمتگذار تو ہیں مگر انہی کے لئے جو ان امور کو دیکھیں اور عقل اور سمجھ سے کام لیں ایسے لوگ کبھی بھی ان کو خدائی صفات والا قرار نہیں دے سکتے۔ہاں اگر کوئی اس فرانسسکن (FRANCISCAN) پادری کی طرح بلا وجہ ڈر کر ہاتھ جوڑ نے لگ جائے تو اور بات ہے۔سب اجرام فلکی ایک عالمگیر قانون کے تابع ہیں! (۲) دوسری بات مجھے معلوم ہوئی کہ سورج چاند اور ستارے سب ایک عالمگیر قانون کے ماتحت چل رہے ہیں اور اس امر کا ثبوت ہیں کہ ایک زبر دست هستی ان سب پر حاکم ہے۔چنانچہ میں نے قرآن کریم کو دیکھا تو وہاں یہ لکھا ہوا تھا کہ اَلَمْ تَرَاَنَّ اللهَ يَسْجُدُلَهُ مَنْ فِى السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِى الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَ الدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ