سیر روحانی — Page 65
کی دریافت ہے سو یہ بات بھی حقیقی طور پر قرآنی رصد گاہ سے ہی حاصل ہوتی ہے باقی سب ڈھکوسلے ہیں، چنانچہ میں نے دیکھا کہ اس رصد گاہ کے قوانین میں لکھا ہو اتھا۔قُل لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِى السَّمواتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللهُ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ بَلِ ادْرَكَ عِلْمُهُمُ فِى الْآخِرَةِ بَلْ هُمُ فِي شَكٍّ مِّنْهَا بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُونَ ال فرماتا ہے زمین و آسمان میں سوائے خدا کے اور کوئی غیب نہیں جانتا۔یعنی مصفی علم غیب صرف خدا تعالیٰ کو ہے اور یہ لوگ جو ستاروں کے پرستار ہیں اور انہیں دیکھ کر غیب کی خبریں بتانے کی کے دعویدار ہیں یہ تو اپنی ترقی کا زمانہ بھی نہیں بتا سکتے اور اتنی بات بھی نہیں جانتے کہ ان کی قوم کب ترقی کریگی۔یہ برابر تباہ ہوتے جا رہے ہیں مگر نہیں جانتے کہ ان کی تباہی کب دُور ہوگی۔اس کے مقابلہ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو پہلے اکیلا تھا آج بہتوں کا سردار بنا ہوا ہے اگر انہیں ستاروں سے علم غیب حاصل ہو سکتا ہے تو کیوں یہ اپنی ترقی کا زمانہ نہیں بتا سکتے اور کیوں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ترقی کو جو ستاروں سے علم غیب حاصل کرنے کا قائل نہیں روک نہیں دیتے ؟ جب یہ اپنی ترقی کا زمانہ بھی نہیں بتا سکتے تو انہوں نے اور کونسی غیب کی خبر بتانی ہے۔پھر فرما یا یہ تو دنیا کی بات ہے بَلِ ادْرَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْآخِرَةِ - بَعْدَ الْمُموت کی حالت کے متعلق یہ علم سے بالکل خالی ہیں اور حق بات تو یہ ہے کہ یہ اندھوں کی طرح تخمینے کرتے ہیں جو کبھی غلطی کرتا اور کبھی ٹھیک راستہ پر چلتا ہے۔جس طرح اندھے کے ہاتھ کبھی لکڑی آ جاتی ہے اور کبھی سانپ ، اسی طرح ان کو بھی کبھی کوئی ایک آدھ بات درست معلوم ہو جاتی ہے اور کبھی حق سے دور باتوں کو سچ سمجھ کر یہ پکڑ لیتے ہیں۔جب مجھے یہ آیت معلوم ہوئی تو میں نے کہا کہ اگر مصفی علم غیب صرف خدا تعالیٰ کے پاس ہی ہے تو ہمیں اس کا کیا فائدہ ہوا، انکل پیچو والے کوتو پھر بھی کبھی لکڑی مل جاتی ہے مگر ہم تو اس طرح انکل پچھ والے فائدہ سے بھی محروم ہو گئے۔اس پر میں نے دیکھا کہ قرآن نے میرے اس محبہ کا بھی جواب دے دیا اور اس نے فرمایا۔عَلِمُ الْغَيْبِ فَلا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولِ " کہ ہم نے یہ علم غیب صرف اپنے پاس ہی نہیں رکھا بلکہ ہم کبھی اپنے بندوں کو اس غیب سے مطلع بھی کر دیا کرتے ہیں مگر انہی کو جن کو ہم چن لیتے ہیں ، ہر کس و ناکس کو غیب کی خبریں نہیں بتاتے۔پھر میں نے کہا کہ غلبہ غیب کا بیشک نبیوں کو ہی حاصل ہو مگر عام انسانوں کو بھی تو کبھی علم غیب