سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 831 of 900

سیر روحانی — Page 831

فتح پور رکھا اور اسے اپنا دارالسلطنت قرار دیا۔۱۵۸۶ء میں اُس نے یہاں کی سکونت ترک کر دی جس کی وجہ غالبا یہ تھی کہ یہاں پانی کھاری تھا۔اس سے شہر کی رونق جاتی رہی اور اکبر کی وفات کے بعد تو یہ شہر اُجڑ گیا۔بہر کیف اس کی بہت سی عمارات آج بھی بہت اچھی حالت میں محفوظ ہیں جن میں سے چند ایک کا تعارف درج ذیل ہے۔مقبره شیخ سلیم چشتی (۵۸۸۳ تا ۵۹۷۹ شیخ بہاء الدین کے فرزند، سلسلہ نسب شیخ فرید الدین گنج شکر سے ملتا ہے۔آپ نے بمطابق ۱۴۷۸/ ۶ تا ۱۵۷۱ء) زہد و تقویٰ اور رُشد و ہدایت کی زندگی اختیار کی۔سیکری میں ایک ٹیلے پر قیام گاہ تھی، متعدد مرتبہ سفر حج اختیار کیا۔ہر بار حج کے بعد خاصی مدت حرمین میں گزارتے۔آخری حج ۹۱۷ھ / ۱۵۶۳ء میں کیا۔اکبر بادشاہ کی اولاد نرینہ زندہ نہیں رہتی تھی۔اُس نے شیخ سے دعا کرائی اور جب بیگم حاملہ ہوئیں تو شیخ کے قرب وجوار میں ایک محل بنوا کر انہیں باقی مدت کے لیے وہیں بھیج دیا۔شہزادہ پیدا ہوا تو اکبر نے حصولِ برکت کے لیے اُس کا نام سلطان سلیم رکھا۔دوسرے سال شہزادہ مراد بھی وہیں پیدا ہوا۔اکبر نے وہاں فتح پور کے نام سے ایک شہر آباد کر دیا۔ایک عظیم الشان شاہی محل اور ایک بہت بڑی خوبصورت مسجد بھی تعمیر کرائی۔یہ شہر ایک عرصے تک اکبر کا دارالحکومت رہا۔فتح پور سیکری کی شاہی مسجد میں سلیم چشتی کا مقبرہ ہے جو سنگِ مرمر سے تعمیر ہوا ہے اور مرضع کاری کا نہایت نادر اور خوبصورت نمونہ ہے۔جامع مسجد اسے بہترین مغل عمارات میں شمار کیا جاسکتا ہے۔اس کے وسطی صحن میں شیخ سلیم چشتی کا خوبصورت مقبرہ ہے اس کے ساتھ نواب اسلام خان کا مقبرہ ہے جو آپ کے پوتے تھے اور ایک اور قابلِ ذکر عمارت عبادت خانے کی ہے جہاں عہد اکبری میں مختلف مذاہب کے علماء جمع ہو کر بحث و مباحثہ کرتے تھے۔بلند دروازہ فتح پورسیکٹری کی جامع مسجد کا جنوبی دروازه ( بلند دروازہ) فتح دکن کی یادگار کے طور پر ۱۶۰۹ء میں بنایا گیا تھا ایسا شاندار دروازہ برصغیر پاک و ہند تو کیا دُنیا بھر کی کسی مسجد میں نظر نہیں آتا۔پنج محل طرز تعمیر کے اعتبار سے ایک انوکھی عمارت ہے۔اس کی پانچ منزلیں ہیں اور ہر منزل اپنی زیریں منزل سے چھوٹی ہوتی چلی گئی ہے اس میں دیوانِ خاص کے ایوان کا