سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 828 of 900

سیر روحانی — Page 828

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ تعارف تاریخی مقامات قلعہ گولکنڈہ (حیدرآباد۔دکن) حیدرآباد سے تقریبا کلو میٹر مغرب میں واقع یہ قلعہ ہندوستان کے عظیم قلعوں میں ایک اہم مقام کا حامل ہے۔قطب شاہی سلاطین کے دور میں سولہویں اور سترھویں صدی میں اس کی تعمیر عمل میں آئی۔صوبہ دار قطب الملک نے خود مختار ہو کر اسے قطب شاہی سلطنت کا پائے تخت بنایا (۱۵۱۲۵۹۱۸ء) پھر نہایت وسیع ڈہری، تہری فصیلیں اور بڑے بڑے بُرج تعمیر کئے۔محلات کی خوشنما پندرہ پندرہ گز بلند دیواروں کے کھنڈر ابھی تک سلامت اور عظمت رفتہ کا تصور تازہ کرتے ہیں۔سب سے اوپر چوٹی پر وسیع شاہی دیوان خانہ ابھی تک موجود ہے۔عظیم الشان عمارتوں، محلوں، بازاروں کے کھنڈروں میں وہ پختہ بڑا تالاب ابھی تک موجود ہے جس میں شاہی غسل کے لئے کثرت سے عرق گلاب بھرا جاتا تھا۔بلند و بالا پہاڑی کے دونوں پہلوؤں پر واقع یہ قلعہ نیم صحرائی زمین کے ایک وسیع علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔بلند و بالا میناروں اور مساجد کے اس عظیم شہر کے کھنڈرات کے ارد گرد اب بھی ایک ہنستا بستا شہر آباد ہے۔قطب شاہی عمارات گولکنڈہ حیدر آباد کی قطب شاہی عمارات میں سے دو اصل حالت میں محفوظ ہیں۔چار مینار وسیع ، چکور، مسقف، شاندار محرا ہیں ہر طرف گھلا ہوا، گوشوں پر چھوٹے مینار، چاروں طرف سیدھی سڑکیں ، فوجی جائزے تقریبات دیکھنے یا عام اعلانات کرنے کے کام لائی جاتی رہی ہیں۔دوسری مشہور عمارت’ مکہ مسجد، بلند و بالا اتنی وسیع کے اندر دو ہزار نمازی آسکتے ہیں۔کھلے صحن میں آصف جاہی عہد کے مقابر ہیں۔پانچویں سلطان محمد قلی نے حیدرآباد شہر سولہویں صدی عیسوی کے آخر میں تعمیر کروایا۔گولکنڈہ کی فتح اور ابوالحسن کی گرفتاری ۱۶۸۷ء پر قطب شاہی کا خاتمہ ہوا اور ملک مغلیہ صوبہ ہو گیا۔