سیر روحانی — Page 793
۷۹۳ کرتے پھریں کہ یہ اپنے ساتھیوں کو مارتا پھرتا ہے۔یعنی کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہئے جس سے غیر قوموں میں یہ چر چا شروع ہو جائے کہ یہ لوگ ظلم کر رہے ہیں۔صحابہ تو حقیقت جانتے تھے لیکن مصر اور قسطنطنیہ کے لوگوں کو اس کا کیا علم تھا، وہ تو یہ باتیں کر سکتے تھے کہ یہ لوگ ظلم کر رہے ہیں اس لئے آپ نے فرمایا کہ کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہئے جس سے غلط قسم کا چرچا شروع ہو جائے۔بیشک مسلمان اس کے متعلق کوئی بات نہ کریں لیکن اگر رومی یا ایرانی ایسی باتیں کریں تو وہ بھی بُری بات ہے۔اس سے انسان کی بدنامی ہو جاتی ہے۔پس آپ نے اُس شخص سے درگزر کیا اور اُسے معاف فرما دیا۔قرآن کریم میں تمدن کے اصول پھر قرآن کریم میں تمدن کے اصولوں کو بھی بیان کیا گیا ہے۔چنانچہ تمدن کے بڑے اصولوں میں سے ایک اصل یہ ہے کہ اگر کوئی مجلس ہو رہی ہو تو کوئی انسان اس سے بلا اجازت نہ جائے۔قرآن کریم اس بارہ میں ہدایت دیتے ہوئے فرماتا ہے اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ إِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَى أَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ يَذْهَبُوا حَتَّى يَسْتَأْذِنُوهُ - ۲۵ یعنی وہی لوگ مؤمن کہلا سکتے ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں اور جب کسی قومی کام کے لئے رسول کے پاس بیٹھے ہوں تو وہ نہیں جاتے جب تک اُس سے اجازت نہ لے لیں اس لئے میں نے حکم دیا ہوا ہے کہ مجلس مشاورت کے اجلاس سے کوئی نمائندہ حوائج ضروریہ وغیرہ کے لئے جانا چاہے تو وہ اجازت لیکر جائے۔انگریزوں کا طریق یہ ہے کہ اگر کوئی شخص پارلیمنٹ سے جائے تو وہ ایک اور آدمی کو ساتھ لے کر جائے مگر یہ غلط طریق ہے۔صحیح طریق یہی ہے کہ اگر کوئی باہر جانا چاہے تو سپیکر سے اجازت لے لے۔یا اگر وہ دیکھے کہ میری غیر حاضری کی وجہ سے میری پارٹی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے تو وہ باہر ہی نہ جائے۔قرآن کریم میں تاریخ تمدن کا ذکر اسی طرح کتابوں کا ایک اور سلسلہ بھی ہے اور وہ تاریخ تمدن کا سلسلہ ہے۔قرآن کریم میں اس تاریخ کا بھی ذکر آیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ تمدن کن دوروں میں سے گزرا ہے۔اور کس طرح اس کا ارتقاء عمل میں آیا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَحَمَلْنَهُ عَلَى ذَاتِ पुष الْوَاحِ وَّ دُسُرٍ یعنی ہم نے نوح کو تختوں اور کیلوں سے بنی ہوئی کشتی پر سوار کیا۔اس آیت میں قرآن کریم