سیر روحانی — Page 792
۷۹۲ فرعون کا عمائد قوم سے مشورہ طلب کرنا اسی طرح قرآن کریم فرعون کا ذکر کرتا ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ ایک جابر بادشاہ تھا مگر اُس کی حکومت میں بھی کوئی نہ کوئی رنگ جمہوریت کا پایا جاتا تھا۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق فیصلہ کرنے کے لئے اُس نے اپنے سرداروں کو جمع کیا اور انہیں کہا فَمَاذَا تَأْمُرُونَ لا تم موسی اور ہارون کے بارہ میں کیا مشورہ دیتے ہو؟ یعنی ایک جابر بادشاہ جو تلوار لے کر لوگوں کی گردنیں اڑا دیتا تھا وہ بھی کہتا ہے کہ اے میری قوم کے لوگو! مجھے مشورہ دو کہ میں موسیٰ کے ساتھ کیا معاملہ کروں۔چنانچہ درباریوں نے کہا۔اَرْجِهُ وَأَخَاهُ وَابْعَثْ فِي الْمَدَائِنِ حَشِرِينَ " موسی اور ہارون کو کچھ مدت تک ڈھیل دو۔اور اس مدت میں شہروں کی طرف آدمی بھجوا ؤ جو قابل آدمیوں کو مقابلہ کے لئے جمع کریں۔غرض قرآن کریم نے فرعون جیسے جابر بادشاہ کا ذکر کر کے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ حکومت بغیر مشورہ کے نہیں ہونی چاہئے۔جب کا فرحکومتیں بھی اپنے معاملات میں مشورہ لیتی ہیں تو مسلمانوں کو تو بدرجہ اولیٰ اِس کا پابند ہونا چاہئے۔جب وہ لوگ جنہیں مشورہ کا حکم نہیں دیا گیا مشورہ لیتے ہیں تو جن لوگوں کو مشورہ کا حکم دیا گیا ہے وہ مشورہ کیوں نہ لیں۔قرآن کریم میں سیاست کے اصول پھر سیاست کے متعلق بھی کئی کتا میں لکھی گئی ہیں اور قرآن کریم نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔سیاست یہی ہوتی ہے کہ مناسب موقع پر مناسب کام کیا جائے اور موقع کے مطابق لوگوں سلوک کیا جائے۔تاریخ میں لکھا ہے کہ جنگ حنین کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں میں انعامات تقسیم کئے تو ایک شخص نے اعتراض کیا کہ هَذِهِ الْقِسْمَةُ مَاعُدِلَ فِيْهَا وَمَا أُرِيدَ بِهَا وَجُهُ اللهِ ، یعنی یہ ایسی تقسیم ہوئی ہے کہ اس میں انصاف سے کام نہیں لیا گیا اور نہ اس میں خدا تعالیٰ کی رضاء کو مد نظر رکھا گیا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ بڑے غیور تھے۔وہ یہ اعتراض سنکر فوڑا تلوار سونت کر کھڑے ہو گئے اور عرض کیا۔يَا رَسُولَ اللهِ! مجھے اجازت دیکھیئے کہ میں اِس منافق کی گردن اُڑا دوں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنْ أَقْتُلَ أَصْحَابِي - یعنی میں اس بات سے خدا تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں کہ لوگ میرے متعلق آپس میں یہ باتیں ۶۴