سیر روحانی — Page 787
ZAZ نظروں سے چُھپا لیا۔‘۴۷ ۴۸ مگر کیا بدلی کے پیچھے چلے جانے سے مراد آسمان پر چلے جانا ہوتا ہے؟ ہزاروں آدمی روزانہ پہاڑوں پر بدلی کے پیچھے جاتے اور پھر واپس آ جاتے ہیں اور کوئی شخص اُن کے متعلق نہیں کہتا کہ وہ آسمان پر چلے گئے ہیں۔غرض یہ ایک نہایت ہی غیر معقول بات ہے جو انجیل نے بیان کی ہے مگر قرآن کریم اس سارے واقعہ کو ایک علمی اور تاریخی رنگ دیتا ہے اور اُن کے بدلی میں نظروں سے غائب ہونے کے بعد کی تاریخ بھی بیان کرتا ہے چنانچہ فرماتا ہے وَاوَيُنْهُمَا إلَى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍو مَعِينٍ ^ یعنی واقعہ صلیب کے بعد ہم نے حضرت مسیح اور اُس کی ماں کو ایک اونچی جگہ یعنی پلیٹو ( PLATEAU) پر پناہ دی۔ربوہ سے مراد پہاڑی نہیں بلکہ اونچی جگہ ہے۔ہم نے ربوہ کا نام بھی جو احمدیت کا موجودہ مرکز اور ضلع جھنگ میں واقع ہے اسی لئے ربوہ رکھا ہے کہ یہ اونچی جگہ ہے۔غرض قرآن کریم بتاتا ہے کہ ہم نے مسیح اور اُس کی ماں کو ایک ایسی جگہ پناہ دی جو اونچی تھی اور بہتے ہوئے پانیوں والی تھی اور ٹھہر نے کے قابل تھی یعنی وہ جگہ سطح زمین سے بلند تھی اور وہاں چشمے بھی بہتے تھے۔چنانچہ قدیم ہندوؤں اور بدھوں کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ شہزادہ یوز آسف جو خدا تعالیٰ کا نبی تھا مغرب سے آیا اور کشمیر کی پہاڑیوں میں رہا اور اُس کو کے ہاتھوں اور پیروں پر زخم تھے۔واقعہ یہ ہے کہ جب حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر لٹکایا گیا تو آپ کے ہاتھوں اور پاؤں پر میخیں لگانے کی وجہ سے زخم ہو گئے تھے جن کو مندمل کرنے کے لئے ایک مرہم ایجاد کی گئی۔جس کا نام طب کی مختلف کتابوں میں مرہم رسل یا مرہم حوار بین بیان کیا گیا ہے۔پھر کہیں جا کر وہ زخم درست ہوئے اس کے بعد آپ کشمیر کی طرف آگئے۔چنانچہ افغانستان کے بارڈر پر جو قبائل بستے ہیں وہ اب تک یہی کہتے ہیں کہ ہم بنی اسرائیل ہیں گویا مسیح کے حواری۔متی نے انجیل میں ایک نامکمل بات بیان کر دی۔لیکن قرآن کریم نے اُن حالات کو مکمل کر دیا اور بتا دیا کہ صرف اتنی بات نہیں کہ وہ واقعہ صلیب کے بعد بدلیوں میں چُھپ کر غا ئب ہو گئے تھے بلکہ صلیب سے بچنے کے بعد وہ کشمیر میں آگئے تھے اور اسرائیلی قبائل کو ایک لمبے عرصہ تک تبلیغ کرتے رہے۔تاریخ ملل قدیمہ پھر دنیا میں تاریخ ملل قدیمہ پر بھی بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں بہت کچھ رطب و یابس بھرا پڑا ہے مگر قرآن کریم اس تاریخ کو