سیر روحانی — Page 786
ZAY خوشی منائی لیکن قرآن کریم کہتا ہے یہ بات بالکل غلط ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام نے بچھڑا بنایا تھا۔وہ ہارون نے نہیں بلکہ سامرکی نے بنایا تھا اور نہ ہارون علیہ السلام نے تو بڑے زور سے اپنی قوم کو شرک سے روکا تھا اور توحید پر قائم رہنے کی تلقین کی تھی۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے۔وَلَقَدْ قَالَ لَهُمُ هَرُونُ مِنْ قَبْلُ يقَوْمِ إِنَّمَا فُتِنْتُمُ بِهِ ، وَإِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمَنُ فَاتَّبِعُونِي وَاَطِيْعُوا أَمْرِی ۲۵ یعنی حضرت ہارون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی واپسی سے قبل اپنی قوم سے کہا تھا کہ اے میری قوم ! بچھڑے کے ذریعہ تمہیں آزمائش میں ڈالا گیا ہے۔اگر حضرت ہارون علیہ السلام نے خود بچھڑا بنایا ہوتا تو ایسا کیوں کہتے ؟ انہوں نے کہا إِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمَنُ فَاتَّبِعُونِي وَأَطِيعُوا أَمْرِى تمہارا رب رحمن ہے۔اس بچھڑے نے تمہاری کیا مدد کرنی ہے وہ تو پیدائش سے پہلے بھی تمہاری مدد کرتا رہا ہے۔چنانچہ دیکھ لو انسان بعد میں پیدا ہوا ہے اور پانی پہلے پیدا ہو چکا تھا۔اسی طرح اور ہزاروں اشیاء ہیں جو پیدائش سے پہلے صفت رحمانیت کے ماتحت پیدا ہو چکی تھیں پس تم میری اتباع کرو میرے حکم کے پیچھے چلو، شرک مت کرو۔انسائیکلو پیڈیا برٹنی کا کا اعتراف حقیقت قرآن کریم میں یہ بیان کردہ حقیقت اتنی واضح ہے کہ انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا جس کو انگلستان کے بڑے بڑے عالموں نے مل کر لکھا ہے اُس میں بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ ہارون علیہ السلام کے شرک کرنے کا واقعہ غلط ہے اور اس سے مضمون نگا ر استدلال کرتا ہے کہ بائبل میں دوسرے لوگوں نے اور بھی کئی باتیں ملادی ہیں اور کئی واقعات اُن کی طرف سے بڑھا دیئے گئے ہیں۔اب دیکھو یہ کتنی عجیب بات ہے کہ قرآن کریم ایک تاریخ بیان کرتا ہے اور یہودیوں اور عیسائیوں کے باپ کو بری قرار دیتا ہے حالانکہ وہ عیسائی اور یہودی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( نَعُوذُ باللهِ ) کذاب کہتے ہیں۔غرض قرآن کریم ایک گالی دینے والے کے باپ کی براءت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ مشرک نہیں تھا مشرک ایک اور شخص تھا جس کا نام سامری تھا۔حضرت مسیح علیہ السلام کی تاریخ پھر حضرت مسیح علیہ السلام کی تاریخ بھی قرآن کریم نے بیان کی ہے۔انجیل میں تو صرف اتنا آتا ہے کہ:- و مسیح اُن کے دیکھتے ہوئے اوپر اُٹھایا گیا اور بدلی نے اُسے اُن کی