سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 761 of 900

سیر روحانی — Page 761

۷۶۱ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ (۱۲) ( تقریر فرموده مورخه ۲۸ دسمبر ۱۹۵۸ء بر موقع جلسہ سالانہ منعقده ربوه) روحانی عالم کے کتب خانے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : - ۱۹۳۸ء سے میں نے سیر رُوحانی کے موضوع پر اپنی تقاریر کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اور اس کا آخری حصہ باقی ہے اس تقریر کے ۱۶ اہم عنوانات تھے جن کے متعلق میں نے اپنے خیالات کے اظہار کا وعدہ کیا تھا۔چنانچہ پندرہ عنوانات پر میں اپنے خیالات کا اظہار کر چکا ہوں اور آج اس کے آخری حصہ کے متعلق اپنے خیالات کو ظاہر کرنا چاہتا ہوں۔حیدر آباد دکن کا اسلام کے عروج اور اسکے زوال میں حصہ اس تقریر کی تحریک مجھے اسی ملک سے شروع ہوئی ہے جس ملک کی وجہ سے ہندوستان میں اسلام کا وقار بڑھا تھا اور جس ملک کی وجہ سے ہندوستان میں اسلام کا وقار کم ہو ا یعنی حیدر آباد دکن۔جب تک اور نگ زیب نے حیدر آباد دکن فتح نہیں کیا تھا اُس وقت تک ہندوستان میں مغلوں کی حکومت صرف الہ آباد تک تھی اور باقی ہندوستان مغلیہ سلطنت سے باہر تھا مگر اور نگ زیب نے بڑی جانفشانی کے ساتھ اور لمبا عرصہ دارالخلافہ سے باہر رہ کر اس ملک کو اسلام کے لئے فتح کیا اور اس طرح اسلام کی بنیاد جنوبی ہندوستان میں رکھی اور سارا ہندوستان اسلام کے جھنڈے تلے جمع ہو گیا مگر افسوس ہے کہ پھر یہیں سے تباہی آئی کیونکہ مرہٹے بھی اسی علاقہ کے قریب سے نکلے ہیں۔پھر وہی حیدر آباد جس کے فتح کرنے کے بعد اسلام کو ایک بہت بڑی طاقت حاصل ہوئی تھی اسی ملک نے انگریزوں سے مل کر میسور کے مسلم بادشاہ سلطان حیدر علی ٹیپو پر حملہ کیا اور ان کو شکست دلائی۔