سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 757 of 900

سیر روحانی — Page 757

۷۵۷ کے عذاب سے بچائیو لیکن کام وہ کرتے ہیں جو دوزخ کے عذاب کو لانے والے ہوتے ہیں۔یعنی غریبوں کو کھانا نہیں کھلاتے اور لوگوں کو یہ نہیں کہتے کہ جب کبھی غرباء کو کوئی ضرورت ہو تو اُن کی ضرورت کو پورا کر دیا کرو۔اسی طرح گھر میں سے کبھی ہنڈیا، کبھی کڑ چھا، کبھی چمٹا ، کبھی پھکنی ایسی ہی عام استعمال میں آنے والی چیزیں انہیں دیتے رہا کرو تا کہ غریبوں کو سہارا ہو۔مسیح امراء کو چاہئے کہ شادی بیاہ کے موقع پر وہ حضرت کا موعود علیہ الصلوة والسلام حضرت اماں جان سے یہاں تک فرمایا کرتے تھے کہ تمہارے پاس جو زیور عارضی طور پر غرباء کو اپنے زیورات دے دیا کریں ہیں وہ غریبوں کو بھی پہننے کے لئے دیتی ۳۲ رہا کرو کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو زیور استعمال ہوتا رہے اس پر زکوۃ نہیں۔یعنی زکوۃ کی اصل غرض تو یہ ہے کہ صدقہ ہو۔جب وہ پہننے کی وجہ سے گھسے گا اور غریبوں کو فائدہ پہنچے گا تو اصل غرض پوری ہو جائیگی پس ہمیشہ آپ یہ تحریک فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی غریب گھرانے میں شادی ہو تو اپنے زیور اُن کو دے دیا کرو تا کہ وہ اپنی بہو یا بیٹی کو پہنا دیں اور اس ذریعہ سے کچھ مدت تک وہ اپنی عزت اور شہرت کو قائم رکھ سکیں۔اب یہ ایک نہایت ہی آسان راستہ ہے کیونکہ زیور کا کچھ دنوں کے لئے کسی کو دے دینا کوئی بڑی بات نہیں بلکہ ایسی چھوٹی بات ہے کہ آسانی سے ہر عورت اس پر عمل کر سکتی ہے۔مگر عمل کرنا مشکل ہے عام طور پر عورتیں اتنا کام بھی نہیں کر سکتیں اگر وہ اتنا کام ہی کر لیا کریں تو اُن کے ہاتھ دوزخ کی آگ سے بچ جائیں۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ چندے کی تحریک کی اور فرمایا عورتو ! تم بھی چندے دو۔ایک عورت نے اپنا ایک کنگن اُتار کر پھینک دیا اور کہا يَا رَسُولَ اللہ ! یہ میری طرف سے چندہ ہے۔آپ نے فرمایا۔اے عورت! تیرا دوسرا ہاتھ کہتا ہے کہ مجھے بھی دوزخ سے بچا۔اُس نے فوراً اپنا دوسرا کنگن بھی اُتار کر آپ کی طرف پھینک دیا او رکہا يَا رَسُولَ اللہ ! یہ بھی لے لیں غرض ان لوگوں میں اس حد تک اخلاص پایا جا تا تھا۔ہماری عورتوں نے ایک موقع پر جب برلن مسجد بنی تھی احمدی خواتین کا ایک شاندار نمونہ ایک مہینے کے اندر اندر ایک لاکھ چالیس ہزار روپیہ جمع کر دیا تھا۔پھر بعد میں اُس کو بیچا گیا کیونکہ حکومت کی طرف سے ایسی شرطیں لگا دی گئی تھیں کہ جن کو ہم پورا نہیں کر سکتے تھے۔مثلاً کہا گیا کہ جو مسجد بنے وہ تین منزلہ بنے اور اتنا روپیہ اس