سیر روحانی — Page 748
۷۴۸ آپ کی ملاقات کے لئے آ گیا۔آپ نے اُن رؤساء کے لڑکوں سے فرمایا کہ ذرا پیچھے ہو جاؤ اور غلام صحابی سے کہا کہ آگے آکر بیٹھ جاؤ۔اس کے بعد دوسرا غلام صحابی آ گیا تو آپ نے اُن سے پھر کہا کہ اور پرے ہٹ جاؤ اور اس غلام کو آگے بٹھا لیا۔پھر ایک اور غلام آ گیا تو پھر آپ نے اُن سے کہا کہ پیچھے ہٹ جاؤ اور اُس غلام کو کہا کہ آگے آجاؤ۔انہوں نے یہ نظارہ دیکھا تو وہ وہاں سے اُٹھے اور باہر چلے گئے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ دیکھ لیا تم نے آج عمر نے ہماری کیسی ذلت کی ہے۔اُن میں سے ایک بڑا سنجیدہ اور سمجھدار نو جوان تھا اُس نے کہا عمر نے ہماری ہتک نہیں کی ، ہمارے باپ دادوں نے ہماری ہتک کی ہے۔جس وقت ہمارے باپ دادا تلواریں لے کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خون بہانے کے لئے آگے بڑھ رہے تھے اُس وقت ان غلاموں نے اپنے سینے اُن تلواروں کے آگے کر دئیے اور اپنی جانیں قربان کر کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچالیا۔آج عمر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہے اگر وہ اس طرح نہ کرتا تو پھر وہ اس کا خلیفہ بھی نہ رہتا۔پس جو کچھ اُس نے کیا ہے وہ عین وفاشعاری اور وفاداری کا طریق تھا۔آ پس دیکھ لو کہ خدا تعالیٰ نے کس طرح قرآنی لنگر کو روحانی طور پر بھی اور جسمانی طور پر بھی ظاہر کیا۔آخر انہوں نے کہا کہ اس ذلت کا کوئی علاج بھی ہے یا نہیں اُس نے کہا کہ اس کا علاج عمر ہی بتا سکتے ہیں ، چلو عمر کے پاس چلیں اور اُن سے پوچھیں کہ جو ہو گیا سو ہو گیا۔ہمارے باپ دادوں نے شرارتیں کیں اور وہ ختم ہو گئیں ، اب ہم ان کو بدل نہیں سکتے مگر آپ ہمیں بتائیں کہ ہم سے اس ذلت کا داغ رکس طرح دُور ہوسکتا ہے۔چنانچہ وہ واپس گئے حضرت عمرؓ اُن کو دیکھتے ہی سمجھ گئے کہ وہ کیوں آئے ہیں۔آپ نے فرمایا اے بچو ! میں تمہارے باپ دادا کو جانتا ہوں وہ مکہ کے رئیس تھے اور مکہ اُن کے قدموں کے پیچھے چلتا تھا۔مجھے پتہ ہے کہ جو کچھ آج میں نے تمہارے ساتھ سلوک کیا ہے اس سے تمہارے دلوں کو زخم پہنچا ہو گا مگر میں مجبور تھا میرا آقا بھی ان غلاموں کو دوسروں پر فضیلت دیا کرتا تھا اور ان کو آگے بٹھاتا تھا اس لئے میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہو کر اس کی خلاف ورزی کس طرح کر سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ سب باتیں درست ہیں ہم تو صرف یہ دریافت کرنے آئے ہیں کہ آخر اس ذلت کا کوئی علاج بھی ہے یا نہیں؟ ان کا سوال سنگر حضرت عمر کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپ نے شام کی طرف ہاتھ اُٹھا دیا جس میں اس طرف اشارہ تھا کہ شام چلے جاؤ اور اُس جہاد میں شامل ہو جا ؤ جو روم کے بادشاہ کے خلاف