سیر روحانی — Page 747
۷۴۷ ا زندگی میں پائی جاتی ہیں۔مثلاً عمرو بن العاص بن وائل نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی حالانکہ عاص بھی بڑا دشمن تھا اور وائل بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا دشمن تھا مگر باوجود اس کے کہ باپ اور دادا دونوں مخالف تھے عمر و بن العاص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور پھر اتنے دشمن گھرانے میں سے ہوتے ہوئے عمرو نے اسلام کے لئے مصر فتح کیا اور پھر مصر پر ہی اکتفاء نہ کیا بلکہ اسلامی حکومت کو مدینہ سے نکال کر افریقہ تک پہنچا دیا۔عمرو بن العاص کی زندگی میں ہی اسلامی مبلغ سپین کی سرحدوں تک پہنچ گئے تھے۔گویا انہوں نے اسلام کو مدینہ سے نکالا اور یورپ کی سرحدوں تک جا پہنچا یا۔آج ہم فخر کرتے ہیں کہ ہمارے مبلغ باہر گئے ہوئے ہیں لیکن ہمارے مبلغ اس زمانہ میں گئے ہیں جب ہوائی جہاز چل رہے ہیں اور عمرو بن العاص نے اُس زمانہ میں اسلام کو مدینہ سے ہسپانیہ تک پہنچا دیا تھا جبکہ اونٹوں کا سفر ہوتا تھا اور راستہ میں پانی بھی نہیں ملتا تھا۔تیسری مثال خالد بن ولیڈ کی ہے۔ان کے باپ دادا حضرت خالد بن ولید کی فدائیت بھی اسلام کے سخت مخالف تھے۔لیکن انہوں نے اسلام قبول کیا اور سارے عرب اور ایران وفلسطین اور شام میں اسلام کو پھیلا یا اور اس طرح اپنے وجود سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحب اولاد نرینہ بنادیا۔لیکن اپنے باپ دادوں کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن تھے اولاد نرینہ سے محروم کر دیا کیونکہ وہ اُنکے مسلک سے باہر ہو گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلک کے تابع ہو گئے۔غرض ایسی ہزاروں مثالیں ملتی ہیں جن کے ذریعہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں روحانی اولاد چلتی جاتی ہے اور معنوی طور پر اُن کے عقیقے ہوتے رہتے ہیں یعنی اسلام خوشیاں مناتا ہے اور قرآنی لنگر سے دنیا فائدہ اٹھاتی رہتی ہے۔اس کی ایک رؤسائے مکہ کے بیٹوں پر حضرت عمرؓ کا غلام صحابہ کو ترجیح دینا اور شاندار مثال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایک حج کا واقعہ ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب خلیفہ ہو گئے اور آپ حج کے لئے تشریف لے گئے تو آپ کو حج کی مبارکباد دینے کیلئے بعد میں کچھ لوگ آئے جن میں مکہ کے رؤساء کے لڑکے بھی شامل تھے۔حضرت عمرؓ نے ان کا مناسب اعزاز کیا اور ان کو اپنے خیمہ میں جگہ دی اور اپنے قرب میں بٹھایا۔مگر تھوڑی دیر کے بعد ہی ایک غلام صحابی