سیر روحانی — Page 745
۷۴۵ جانتی نہیں میں آنے پر مجبور تھا اگر میں وہاں رہتا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مروا دینا تھا۔عربوں میں رواج تھا کہ عورتیں اپنے خاوند کو چا کا بیٹا کہا کرتی تھیں۔اس دستور کے مطابق اُس نے کہا۔اے میرے چچا کے بیٹے ! تجھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سمجھنے میں غلطی لگی ہے محمد رسول اللہ بڑی شان کا آدمی ہے تیرے بھا گنے کے بعد میں اُنکے پاس گئی تھی اور میں نے اُن سے پوچھا تھا کہ مکرمہ اگر واپس آ جائے اور آپ اُسے چھوڑ دیں تو یہ زیادہ اچھا ہے یا یہ اچھا ہے کہ وہ کسی غیر ملک میں جا کر دوسروں کی پناہ میں رہے۔اس پر محمد رسول اللہ نے مجھے کہا کہ نہیں اگر وہ میرے پاس آکر رہے تو زیادہ اچھا ہے میں اُس کے ساتھ حسنِ سلوک کرونگا۔عکرمہ کہنے لگا خدا کی قسم ! اپنے باپ دادا کے مذہب کو کبھی نہیں چھوڑوں گا۔اُس نے کہا میں یہ بات بھی پوچھ چکی ہوں۔میں نے خود کہا تھا کہ وہ بڑا غیرت مند ہے اپنے باپ دادا کے مذہب کو کبھی نہیں چھوڑے گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ وہ بے شک بُت پرستی پر قائم رہے میں اُسے کچھ نہیں کہوں گا۔کہنے لگا۔یہ اتنی بڑی بات ہے کہ مجھے اس پر یقین نہیں آ سکتا۔میں تیرے کہنے پر مکہ میں تو واپس چلا جاتا ہوں مگر میں خود اس بارہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوں گا اگر انہوں نے تصدیق کی تو پھر میں کہوں گا کہ بات ٹھیک ہے۔چنانچہ وہ مکہ میں واپس آیا عکرمہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں اور اپنی بیوی کو ساتھ لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا۔آپ کو اطلاع ہوئی تو آپ نے اُسے بُلا لیا جب وہ پہنچا تو کہنے لگا اے محمد ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں نے اپنی بیوی سے سُنا ہے کہ آپ نے یہ کہا تھا کہ اگر عکرمہ واپس آ جائے تو اُسے کوئی سزا نہیں دی جائیگی۔آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔کہنے لگا جناب میں نے اپنی بیوی سے یہ بھی سُنا ہے کہ اگر میں اپنے دین پر قائم رہنا چاہتا ہوں اور آپ کو نہ مانوں تو پھر بھی مجھے کچھ نہیں کہا جائے گا۔آپ نے فرمایا اُس نے ٹھیک کہا ہے یہ بھی میں نے کہا تھا۔یہ بات سنتے ہی اُسکی آنکھیں گھل گئیں اور کہنے لگا۔اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔عکرمہ ! تُو نے تو میرے بڑے بڑے معجزات دیکھے تھے مگر پھر بھی تو ایمان نہ لایا آج تُو نے کیا دیکھا ہے جس کی وجہ سے تو نے کلمہ شہادت پڑھ لیا ہے اور کفر چھوڑ دیا ہے۔وہ کہنے لگا۔اتنی بڑی مہربانی جو آپ نے مجھ پر کی ہے یہ نبی کے سوا اور