سیر روحانی — Page 744
۷۴۴ کو دیکھ کر اتنا ڈرا کہ اُسی وقت روپیہ لا کر اُس کے حوالے کر دیا۔19 اب یہ ایک خدائی معجزہ تھا مگر اس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ ابو جہل کتنا خبیث دشمن تھا۔ایسے دشمن کے گھر میں عکرمہ پیدا ہوا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں باوجود یہ کہنے کے کہ تو ابتر نہیں تیرا دشمن ابتر ہے اُس زمانہ تک کوئی لڑکا پیدا نہیں ہو ا بعد میں ایک لڑکا پیدا ہوا جو فوت بھی ہو گیا مگر جب یہ بات ہو رہی تھی آپ کے ہاں بیٹا نہیں تھا۔فتح مکہ پر عکرمہ کا فرار جب عکرمہ بڑا ہوا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو عکرمہ بھاگ کے سمندر کے اُس کنارہ کی طرف چلا گیا جہاں سے کشتیاں حبشہ کو جاتی تھیں۔اُس کی بیوی تین چار مہینے انتظار کرتی رہی کہ وہ آ جائے تو میں کوشش کر کے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی لے دوں کیونکہ وہ اُن لوگوں میں سے تھا جو مسلمانوں پر سخت ظلم کیا کرتے تھے اور اُن کو مروایا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایسے لوگ خواہ بیت اللہ میں بھی پناہ لیں ان کو نہ بخشا جائے۔عکرمہ بھی ڈر کے بھاگ گیا تھا کہ شاید مجھے بھی قتل کیا جائے گا۔عکرمہ کی بیوی کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی حاصل کرنا جب تین چار مہینے ہو گئے اور وہ واپس نہ آیا تو اُس کی بیوی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔آخر خاوند کی محبت ہوتی ہے اور آکر عرض کیا کہ يَا رَسُولَ اللهِ! کیا یہ اچھا ہے کہ آپ کا رشتہ دار بھائی آپ کے ماتحت آپ کے اپنے ملک میں زندگی گزارے یا یہ اچھا ہے کہ آپ کا رشتہ دار بھائی بھاگ کر کسی غیر ملک میں چلا جائے اور غیر ملکیوں کی پناہ میں اپنی عمر گزارے۔آپ نے فرمایا نہیں اگر ہمارا بھائی ہے تو پھر ہماری پناہ میں وہ اپنی عمر گزارے تو یہ زیادہ اچھا ہے۔وہ کہنے لگی۔کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں جا کر اُسے لے آؤں۔آپ نے فرمایا جاؤ۔وہ کہنے لگی میں جاتی تو ہوں مگر آپ جانتے ہیں عکرمہ بڑا غیرت مند ہے اگر اُسے یہ پتہ لگا کہ آپ اُس کا دین بدلوائیں گے تو پھر اُس نے نہیں آنا۔یہ بھی وعدہ کیجیئے کہ وہ بُت پرست رہ کر آپ کے پاس آئیگا اور یہاں مکہ میں رہے گا اور پھر اُسے مارنا نہیں اور دوسرے اُسے مجبور نہیں کرنا کہ وہ بُت پرستی چھوڑ دے۔آپ نے فرمایا مجھے منظور ہے۔چنانچہ وہ عکرمہ کو واپس بلانے کے لئے چلی گئی۔عکرمہ اپنی بیوی کو دیکھ کر کہنے لگا تم کہاں؟ وہ کہنے لگی تو جو آ گیا تھا میں کیا کرتی۔وہ کہنے لگا تو