سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 733 of 900

سیر روحانی — Page 733

۷۳۳ وہ جو پرانی ممیاں نکلی ہیں اُن میں فرعونِ موسی کی میں بھی نکلی ہے۔مصریوں کو ایسی دوائیں معلوم تھیں کہ جب وہ میت کے اندر وہ دوائیں ٹیکہ کے ذریعہ پہنچا دیتے تو لاشیں کئی کئی سو سال تک محفوظ رہتی تھیں۔اب انگریزوں نے بھی ایسی دوائیں نکال لی ہیں لیکن تجربہ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یورپ نے جو دوائیں ایجاد کی ہیں اُن کی وجہ سے لاشیں صرف تمیں چالیس سال تک محفوظ رہتی ہیں اس کے بعد خراب ہونا شروع ہو جاتی ہیں مگر مصریوں کی کئی کئی ہزار سال کی ممیاں مل گئی ہیں۔اُن کو کئی ایسے نسخے معلوم تھے کہ جن کی وجہ سے کئی کئی ہزار سال تک لاشیں محفوظ رہتی تھیں۔فرعون موسی کی ممی پر ہی ۳۵ سو سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور وہ ممیاں جو فرعونِ موسی سے بھی کئی کئی ہزار سال پہلے کی ملی ہیں ان کو لے لیا جائے تو پھر پانچ چھ ہزار سال سے وہ لاشیں محفوظ چلی آ رہی ہیں مگر یورپین لوگوں نے ابھی تک صرف تیں چالیس سال تک کے لئے لاش کو محفوظ رکھنے کا علاج نکالا ہے اس سے زیادہ نہیں۔بہر حال ہمیں تو صرف اُس فرعون کی ممی سے غرض ہے جو فرعون موسی کہلاتا ہے اور اُس کے متعلق موسی کے بائیس سو سال بعد قرآن نے یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی لاش کو محفوظ رکھنے کا وعدہ فرمایا تھا۔اصل بات یہ ہے کہ جب و ڈوبنے لگا تو اُس کو خیال آیا کہ معلوم ہوتا ہے موسی سچا ہی تھا اور میں اس کی مخالفت کر کے غلطی کرتا رہا۔چنانچہ اُس نے ڈوبتے وقت کہا کہ میں ایمان لاتا ہوں کہ سوائے اُس خدا کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور کوئی خدا نہیں۔اُسوقت اللہ تعالیٰ نے فرعون سے کہا کہ اب ایمان لاتے ہو جب کہ تم مرنے لگے ہو۔اب تو صرف یہی ہے کہ نُنَجِيكَ بِبَدَ نِكَ سہم تیرے جسم کو نجات دیں گے تا کہ تو آنے والے لوگوں کے لئے نشان ہو۔چنانچہ اُس کی لاش محفوظ رہی مگر وہ لاش تو اس زمانہ میں ملی ہے جبکہ قرآن کے نزول پر بھی چودہ سو سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن قرآن کریم نے آج سے چودہ سو سال پہلے خبر دے دی تھی کہ فرعونِ موسی کی لاش محفوظ ہے اور اگر اس میں بائیس سو سال کا پہلا عرصہ بھی شامل کر لیا جائے تو ۳۵ سو سال سے یہ پیشگوئی پوری ہوتی چلی آ رہی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس تھی کے نام کے متعلق اختلاف ہے لیکن یہ اختلاف صرف اتنا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جس فرعون کے زمانہ میں حضرت موسی علیہ السلام پیدا ہوئے اُس کا نام رعمسیس تھا اور جس فرعون کے زمانہ میں حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر لائے اُس کا نام منفتاح تھا مگر لاشیں دونوں کی مل گئی ہیں۔ایک کے متعلق کہتے