سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 709 of 900

سیر روحانی — Page 709

2۔9 کتاب ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ ہر چیز کا جوڑا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ بعض درختوں کے بھی جوڑے ہیں۔اگر قرآن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لکھا ہوا ہوتا تو اس میں تو جوڑے کا ذکر ہی نہیں ہونا چاہئے تھا۔اور اگر ہوتا تو یہ ہوتا کہ یہ سب فضول باتیں ہیں کوئی چیز جوڑا جوڑا نہیں۔مگر قرآن میں لکھا ہوا ہے کہ ہر چیز کو خدا تعالیٰ نے جوڑے کی شکل میں پیدا کیا ہے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جیسا کہ میں آگے ثابت کرونگا اس کا کوئی علم نہیں تھا۔اب اگر یہ ثابت ہو جائے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم نہیں تھا کہ ہر چیز کا جوڑا جوڑا ہے تو پھر آیت رکس نے لکھ دی۔صاف ثابت ہے کہ یہ عالم الغیب خدا نے لکھی ہے جس سے محمد رسول اللہ بھی سیکھتے تھے اور ہم بھی سیکھتے ہیں۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لکھی ہوئی ہوتی تو اُنکو بھی علم ہوتا۔اور اگر اُنکو علم ہوتا تو وہ بات نہ ہوتی جو میں آگے بیان کرنے لگا ہوں۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر چیز علیہ وسلم مدینہ میں ایک کھجوروں کے باغ کے پاس سے گزرے۔آپ نے دیکھا کہ باغ والے کر کھجور کے جوڑا ہو نیکا کوئی علم نہیں تھا۔سے کچھ چیز لے کر مادہ کھجور سے ملا رہے ہیں۔آپ نے فرمایا ایسا کیوں کرتے ہو۔انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! اس کے بغیر پھل اچھا نہیں آتا۔یعنی کھجور میں بھی نر اور مادہ ہے اور اگر ان کو آپس میں نہ ملایا جائے تو جیسے کر مادہ سے نہ ملے تو بچہ پیدا نہیں ہوتا اسی طرح اگر نر کھجور کو مادہ کھجور سے نہ ملایا جائے تو اس کا پھل بھی پیدا نہیں ہوتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی بات سنکر یہ نہیں فرمایا کہ ٹھیک ہے قرآن میں بھی یہی آتا ہے بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھل تو خدا تعالیٰ پیدا کرتا ہے اُس نے جو پیدا کرنا ہے وہ تو کرے گا ہی جو نہیں پیدا کرے گا وہ کس طرح ہو جائے گا۔چونکہ وہ بڑے اطاعت گزار لوگ تھے انہوں نے آپ کی بات سنکر یہ کام کرنا چھوڑ دیا۔جب پھل کا موسم آیا تو کھجوروں کو پھل نہ لگا یا بہت کم لگا اُن لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ يَا رَسُولَ اللهِ! آپ کی نصیحت پر عمل کر کے ہم تو مارے گئے۔آپ نے تلقیح سے یعنی نر درخت کو مادہ درخت سے ملانے سے منع کیا تھا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارا پھل بہت ہی کم آیا۔آپ نے فرمایا کہ اس فن کے تم ماہر ہو میں ماہر نہیں ہوں، مجھے اس حقیقت کا کیا علم