سیر روحانی — Page 686
۶۸۶ يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَ هَذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ یعنی ہم خوب جانتے ہیں کہ یہ کفار کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسا انسان ہے جسے کسی اور شخص نے سکھایا ہے قرآن اس کا اپنا نہیں۔فرماتا ہے جس شخص کی طرف وہ یہ بات منسوب کرتے ہیں وہ تو عجمی ہے وَ هذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِین اور یہ کلام عربی زبان میں ہے اور اس میں جو بات بھی کہی گئی ہے اس کی دلیل دی گئی ہے۔اگر یہ جھوٹ ہے تو جھوٹ کی تائید میں تو دلیل نہیں ہوا کرتی۔اور اگر کہو کہ عجمی نے سکھایا ہے تو محمد رسول اللہ تو عربی کے سوا کچھ جانتا نہیں۔اور اگر کہو کہ عربی نے سکھایا ہے تو قرآن کریم کی صرف عربی معجزہ نہیں بلکہ قرآن کا عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ ہونے میں معجزہ ہے یعنی اس کی زبان ایسی ہے کہ اس کے اندر دلائل بھی بیان کئے گئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ ہم کیوں حکم دیتے ہیں ، خدا کو کیوں منواتے ہیں ، فرشتوں کو کیوں منواتے ہیں، رسولوں کو کیوں منواتے ہیں ، جھوٹ سے کیوں منع کرتے ہیں ، سچ کی کیوں تائید کرتے ہیں، ظلم سے کیوں روکتے ہیں، انصاف کی کیوں تائید کرتے ہیں، غرض یہ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ میں ہے اور اپنے احکام کی دلیلیں بھی دیتا ہے جھوٹا آدمی دلیلیں کہاں سے لے آئے گا۔پس تمہاری دونوں باتیں غلط ہیں۔تم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اسے کسی عجمی نے سکھایا ہے کیونکہ محمد رسول اللہ تو عجمی نہیں یہ تو عربی ہے اس کو تو کسی اور زبان کا پتہ ہی نہیں اور تم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اسے کسی عربی نے سکھایا ہو کیونکہ اگر کسی عربی نے سکھایا ہو تو بہر حال قرآن جھوٹ تو ہوا اور اگر قرآن جھوٹا ہو گا تو اس میں دلیلیں کہاں سے آجائیں گی حالانکہ تم جانتے ہو کہ یہ کلام مین ہے۔مُبِينٌ کے معنے ہوتے ہیں ظاہر کرنے والی یعنی جو بات بھی کہتی ہے اُسکو کھول کر رکھ دیتی ہے اور اُس کی معقولیت کے دلائل دیتی ہے۔معانی کی نہر پھر عظیم معانی کی طرف بھی اُس نے توجہ دلائی ہے۔معانی کے معنے ہوتے ہیں موقع کے مطابق کلام بیان کرنا۔جو کتاب موقع کے مطابق ہر بات بیان کرے اور کسی مرحلہ پر بھی کسی بے موقع بات کا اُس میں ذکر نہ ہو اُس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ علم معانی کے مطابق ہے۔قرآن کریم بھی کہتا ہے کہ اس کتاب میں علم معانی موجود ہے چنانچہ فرماتا ہے کہ وَ اِنْ كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّ لَنَا عَلَى عَبْدِنَا اگر تم کو ہماری اس تعلیم پر جو ہم نے قرآن میں نازل کی ہے کچھ شبہ ہے تو فَأْتُوا بَسُورَةٍ مِّنْ مِثْلِهِ " تم اس قسم کی کوئی اور سورۃ پیش کرو۔وَادْعُوا شُهَدَاءَ كُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنتُمْ صَدِقِينَ۔